السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4933
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ بِفِتْيَانٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ وَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ دُورَهُمْ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دوں، پھر میں نوجوانوں کو حکم دوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور میں لوگوں کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں جو اذان سن کر نماز کو نہیں آتے۔“