کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: باجماعت نماز کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کے عذر کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جمعہ کے علاوہ نماز باجماعت کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
بَابُ فَرْضِ الْجَمَاعَةِ فِي غَيْرِ الْجُمُعَةِ عَلَى الْكِفَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
یہ باب جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں میں باجماعت نماز ادا کرنے کے فرضِ کفایہ ہونے کے بیان میں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ ﷺ نہایت رحم فرمانے والے اور نرم مزاج تھے۔ آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے، تو آپ ﷺ نے ہم سے ان کے متعلق دریافت فرمایا جنہیں ہم (گھروں میں) چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، ان کے پاس رہو، انہیں (دین کی) تعلیم دو، انہیں (بھلائی کا) حکم دو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ فَقُلْتُ: فِي خَرِبَةٍ دُونَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ". قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بستی یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، اس جگہ شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہنے والی (بکری) کو کھا جاتا ہے۔“