السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4951
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي قَائِدًا لَا يُلَاوِمُنِي فِي هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ: " أِيُّ الصَّلَاتَيْنِ؟ " قُلْتُ: الْعِشَاءُ وَالصُّبْحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْقَاعِدُ عَنْهُمَا مَا فِيهِمَا لَأَتَاهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ". قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقِيلَ عَبْدَ اللهِ، وَقِيلَ عَمْرٌو.حافظ ثناء اللہ
علاء بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے لانے والا موجود ہے لیکن ان دو نمازوں میں وہ مجھے نہیں لا سکتا۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون سی دو نمازیں؟“ انہوں نے کہا: ”عشاء اور صبح۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر لانے والا جان لے کہ ان دو نمازوں کا کیا اجر و ثواب ہے تو وہ ان کے وقت ضرور آئے، اگرچہ اس کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔“