السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4941
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَمْ يُرِدْ خَيْرًا، أَوْ لَمْ يُرَدْ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عدی بن ثابت انصاری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اذان کو سنا اور اس کو قبول نہ کیا، یعنی نماز کے لیے نہ آیا، اس نے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا تو اس سے بھی بھلائی نہیں کی جائے گی۔