السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4948
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَاوِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: " أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رزین، سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بیمار آدمی ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے لانے والا کوئی نہیں جو پابندی کر سکے، کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اذان سنتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔“