السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4944
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ مِنْ جِيرَانِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ". وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسجد کے ہمسایوں میں سے جو اذان کو سنتا ہے اور وہ تندرست ہے اسے کوئی عذر نہیں، پھر بھی نماز کے لیے نہیں آتا تو اس کی کوئی نماز نہیں۔“