کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ} [محمد: ١٥]، أَيَاءً تَقْرَأُهَا أَوْ أَلِفًا؟ فَقَالَ: " كُلُّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتُ غَيْرَ هَذَا ". قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا قُرِئَ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ، إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ "، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ، فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ، فَقُلْنَا لَهُ: سَلْهُ عَنِ ⦗١٤⦘ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: " عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ ".
حافظ ثناء اللہ
شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا جس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ اس آیت ﴿مِنْ مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ﴾ [سورة محمد: 15] کو کیسے پڑھتے ہیں: «ي» کے ساتھ یا «أَلِف» کے ساتھ؟ انہوں نے (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورے قرآن کو سمجھ لیا ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نو مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ تو اشعار پڑھنے کے مانند ہوا، کیونکہ بہترین نماز تو زیادہ رکوع اور سجود والی ہے۔ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، لیکن جب اس کی تلاوت کی جائے گی تو وہ دلوں میں راسخ ہوگا اور نفع دے گا۔ میں جانتا ہوں جو ایک جیسی سورتیں نبی ﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے۔ علقمہ رحمہ اللہ آئے تو ہم نے کہا: علقمہ! جاؤ اور (نظائر) ایک جیسی سورتیں جو نبی ﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے ان کے متعلق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرو۔ علقمہ رحمہ اللہ نے سوال کیا تو انہوں نے کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں۔
(ب) ”افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔“
(ب) ”افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " كُلُّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتُ غَيْرَ هَذَا قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَذٌّ كَهَذِّ الشَّعْرِ، إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ، إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورے قرآن کو سمجھ لیا ہے؟ وہ فرمانے لگے: میں تو مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح ہوا۔ ”لوگ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔“ لیکن جب دل میں واقع ہوگا تو دل میں راسخ بھی ہوگا اور نفع بھی دے گا، کیونکہ ”افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے گئے۔ ان کے بعد علقمہ رحمہ اللہ داخل ہوئے، پھر ہم ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے: انہوں نے مجھے اس کے بارے میں خبر دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ ". قِيلَ: أِيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " طُولُ الْقِيَامِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان جس میں شک نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور مقبول حج۔“ پھر پوچھا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ لَكِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ: الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ، وَاقْتَرَبَتْ وَالْحَاقَّةَ فِي رَكْعَةٍ، وَالطُّورَ وَالذَّارِيَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَإِذَا وَقَعَتْ وَالنُّونَ فِي رَكْعَةٍ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَالْمُرْسَلَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَالدُّخَانَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فِي رَكْعَةٍ..
حافظ ثناء اللہ
علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”میں مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”کیا تم اسے اشعار کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو اور ردی قسم کی گفتگو کی طرح؟ نبی ﷺ ایک جیسی دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے۔“ جیسے سورہ ﴿الرَّحْمٰن﴾ [سورة الرحمن: 1] اور ﴿النَّجْم﴾ [سورة النجم: 1] ایک رکعت میں، ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ [سورة القمر: 1] اور ﴿الْحَاقَّة﴾ [سورة الحاقة: 1] ایک رکعت میں، ﴿الطُّور﴾ [سورة الطور: 1] اور ﴿الذَّارِیَات﴾ [سورة الذاريات: 1] ایک رکعت میں، ﴿إِذَا وَقَعَتِ﴾ [سورة الواقعة: 1] اور ﴿ن وَالْقَلَمِ﴾ [سورة القلم: 1] ایک رکعت میں، ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة النبإ: 1] اور ﴿الْمُرْسَلَات﴾ [سورة المرسلات: 1] ایک رکعت میں، اور ﴿الدُّخَان﴾ [سورة الدخان: 1] اور ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ [سورة التكوير: 1] ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔
وَزَادَ غَيْرُهُ عَنْ إِسْرَائِيلَ فِي هِذَا الْحَدِيثِ: وَسَأَلَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ وَعَبَسَ فِي رَكْعَةٍ، ثُمَّ ذَكَرَ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَمَا بَعْدَهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ ⦗١٥⦘ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ..
حافظ ثناء اللہ
اسرائیل سے کچھ الفاظ اس حدیث میں زائد ہیں: ﴿سَأَلَ سَائِلٌ﴾ [سورة المعارج: 1] اور ﴿وَالنَّازِعَاتِ﴾ [سورة النازعات: 1] ایک رکعت میں، ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] اور ﴿عَبَسَ﴾ [سورة عبس: 1] ایک رکعت میں، پھر اس نے ذکر کیا: ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة النبأ: 1] اور اس کے بعد والی ایک رکعت میں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ وَكِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إنَّ أَحْسَنَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ اثْنَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
شقیق رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے وکیع کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، ان الفاظ کے بغیر کہ ”بہترین نماز رکوع و سجود والی ہے“۔ انہوں نے فرمایا: میں ان ایک جیسی سورتوں کو پہچانتا ہوں، جن کو نبی ﷺ ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتے تھے اور بیس سورتیں دس رکعات میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ حَرْبٍ السِّمْسَارُ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أنبأ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْرَأُ عَشْرَ سُوَرٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ عَاصِمٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي الْعَالِيَةِ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ أَقْرَأُ عِشْرِينَ سُورَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ". تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِ أَبِي الْعَالِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک رکعت میں دس سورتیں پڑھ لیتے تھے۔
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: میں ایک رکعت میں بیس سورتیں پڑھ لیتا ہوں، لیکن مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”ہر سورت کا رکوع و سجود میں سے حصہ ہے۔“
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: میں ایک رکعت میں بیس سورتیں پڑھ لیتا ہوں، لیکن مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”ہر سورت کا رکوع و سجود میں سے حصہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ". فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: وَإِنِّي لَأَذْكُرُ، وَأَذْكُرُ الْمَكَانَ الَّذِي حَدَّثَنَا فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے اس نے بیان کیا جس نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”ہر سورت کا رکوع و سجود میں حصہ ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تجھے یہ کس نے بیان کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: مجھے یاد ہے اور میں اس جگہ کو بھی یاد رکھتا ہوں جس جگہ اس نے مجھے بیان کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَأَنَا حَاجٌّ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ مَنْزِلَهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي يُخَفِّفُ الْقِيَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر: ١]، وَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ} [النصر: ١] وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، رَأَيْتُكَ تُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَتُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً أَوْ يَرْكَعُ لِلَّهِ رَكْعَةً، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً ".
حافظ ثناء اللہ
مخارق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ سے گزرا اور حج کا ارادہ رکھتا تھا۔ میں ان کے گھر میں داخل ہوا تو میں نے ان کو پایا کہ وہ خفیف قیام والی نماز پڑھ رہے ہیں جیسے ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] اور ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] لیکن رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں، جب انہوں نے نماز پوری کی تو میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ قیام تھوڑا اور رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ یا ایک رکوع کرتا ہے تو اللہ اس کی غلطی مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ: مَنْ يَعْرِفُ هَذَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ لَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أُتِيَ بِذُنُوبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ وَعَاتِقَيْهِ، فَكُلَّمَا رَكَعَ أَوْ سَجَدَ تَسَاقَطَتْ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک نوجوان کو دیکھا، وہ نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنی نماز کو لمبا کر دیا (یعنی قیام لمبا کیا) اور رکوع و سجود چھوٹے کیے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کوئی ہے جو اس کو جانتا ہو؟ ایک شخص نے کہا: میں اس کو جانتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اگر میں اسے پہچانتا تو میں اس کو حکم دیتا کہ وہ رکوع و سجود کو لمبا کرے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ لا کر اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں، جب وہ رکوع و سجود کرتا ہے تو وہ گناہ اس سے گر جاتے ہیں۔“