السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " كُلُّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتُ غَيْرَ هَذَا قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَذٌّ كَهَذِّ الشَّعْرِ، إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ، إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورے قرآن کو سمجھ لیا ہے؟ وہ فرمانے لگے: میں تو مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح ہوا۔ ”لوگ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔“ لیکن جب دل میں واقع ہوگا تو دل میں راسخ بھی ہوگا اور نفع بھی دے گا، کیونکہ ”افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔“ میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جن میں سے دو دو سورتیں رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے گئے۔ ان کے بعد علقمہ رحمہ اللہ داخل ہوئے، پھر ہم ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے: انہوں نے مجھے اس کے بارے میں خبر دی۔