السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ: مَنْ يَعْرِفُ هَذَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ لَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أُتِيَ بِذُنُوبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ وَعَاتِقَيْهِ، فَكُلَّمَا رَكَعَ أَوْ سَجَدَ تَسَاقَطَتْ عَنْهُ ".جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک نوجوان کو دیکھا، وہ نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنی نماز کو لمبا کر دیا (یعنی قیام لمبا کیا) اور رکوع و سجود چھوٹے کیے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کوئی ہے جو اس کو جانتا ہو؟ ایک شخص نے کہا: میں اس کو جانتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اگر میں اسے پہچانتا تو میں اس کو حکم دیتا کہ وہ رکوع و سجود کو لمبا کرے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ لا کر اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں، جب وہ رکوع و سجود کرتا ہے تو وہ گناہ اس سے گر جاتے ہیں۔“