السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 4694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ حَرْبٍ السِّمْسَارُ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أنبأ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْرَأُ عَشْرَ سُوَرٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ عَاصِمٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي الْعَالِيَةِ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ أَقْرَأُ عِشْرِينَ سُورَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ". تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِ أَبِي الْعَالِيَةِ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک رکعت میں دس سورتیں پڑھ لیتے تھے۔
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: میں ایک رکعت میں بیس سورتیں پڑھ لیتا ہوں، لیکن مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”ہر سورت کا رکوع و سجود میں سے حصہ ہے۔“