کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: رات کی نماز میں بلند اور پست آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ ". رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: يَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ مَنْ وَرَاءَ الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ قرأت اس قدر بلند آواز سے کرتے کہ جو حجرہ میں ہو وہ سن لے اور آپ ﷺ کا حجرہ گھر میں تھا۔
(ب) سیدنا سعید بن منصور رحمہ اللہ، ابن ابی زناد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی قرأت حجرہ کے باہر تک سنائی دیتی تھی اور حجرہ آپ ﷺ کا گھر میں ہی تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4698
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداؤد 1327»
حدیث نمبر: 4699
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ فَيَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ مَنْ كَانَ خَارِجًا ".
حافظ ثناء اللہ
کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کیسی تھی؟ وہ کہنے لگے: آپ ﷺ کسی حجرہ میں تلاوت کرتے تو جو باہر ہوتا اس کو سن لیتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4699
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ النسائي في الكبري 499»
حدیث نمبر: 4700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ " قَالَ: لَقَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ فَقَالَ: " مَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أحْتَسِبُ بِهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا "، وَقَالَ لِعُمَرَ: " اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن رباح، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے تلاوت کر رہے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ جب دونوں رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تیرے پاس سے ہوا تو تم نماز کی حالت میں اپنی آواز کو پست کیے ہوئے تھے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سنا رہا تھا اس کو جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! میں تیرے پاس سے گزرا تو تم نے اپنی آواز کو بلند کیا ہوا تھا۔“ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو پست کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4700
درجۂ حدیث محدثین: ابوداؤد 1329
تخریج حدیث «ابوداؤد 1329»
حدیث نمبر: 4701
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا إِلَى قَوْلِهِ، قَالَ: فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
ثابت بنانی رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے والوں کو بیدار کرنا چاہتا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4701
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداؤد 1329»
حدیث نمبر: 4702
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " ارْفَعْ شَيْئًا " وَلَا لِعُمَرَ " اخْفِضْ شَيْئًا " قَالَ: " وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ ". قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس قصہ کو نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنی آواز کو بلند کرو اور نہ ہی یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی آواز کو پست کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! میں نے سنا ہے تو فلاں فلاں سورہ پڑھتا ہے۔“ وہ کہنے لگے: عمدہ اور پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ جمع کر دے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درستگی کو پا لیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4702
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداؤد 1330»