السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ} [محمد: ١٥]، أَيَاءً تَقْرَأُهَا أَوْ أَلِفًا؟ فَقَالَ: " كُلُّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتُ غَيْرَ هَذَا ". قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا قُرِئَ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ، إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ "، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ، فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ، فَقُلْنَا لَهُ: سَلْهُ عَنِ ⦗١٤⦘ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: " عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ ".شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا جس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ اس آیت ﴿مِنْ مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ﴾ [سورة محمد: 15] کو کیسے پڑھتے ہیں: «ي» کے ساتھ یا «أَلِف» کے ساتھ؟ انہوں نے (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورے قرآن کو سمجھ لیا ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نو مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ تو اشعار پڑھنے کے مانند ہوا، کیونکہ بہترین نماز تو زیادہ رکوع اور سجود والی ہے۔ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، لیکن جب اس کی تلاوت کی جائے گی تو وہ دلوں میں راسخ ہوگا اور نفع دے گا۔ میں جانتا ہوں جو ایک جیسی سورتیں نبی ﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے۔ علقمہ رحمہ اللہ آئے تو ہم نے کہا: علقمہ! جاؤ اور (نظائر) ایک جیسی سورتیں جو نبی ﷺ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے ان کے متعلق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرو۔ علقمہ رحمہ اللہ نے سوال کیا تو انہوں نے کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں۔
(ب) ”افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔“