السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 4693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ وَكِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إنَّ أَحْسَنَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ اثْنَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
شقیق رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے وکیع کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: ”بہترین نماز رکوع و سجود والی ہے۔ میں ان ایک جیسی سورتوں کو پہچانتا ہوں جن میں سے دو دو سورتیں رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں پڑھا کرتے تھے، بیس سورتیں دس رکعات میں۔“