السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب الإكثار من الركوع والسجود باب: اس شخص کا بیان جس نے رکوع اور سجود کی کثرت کو مستحب قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَأَنَا حَاجٌّ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ مَنْزِلَهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي يُخَفِّفُ الْقِيَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر: ١]، وَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ} [النصر: ١] وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، رَأَيْتُكَ تُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَتُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً أَوْ يَرْكَعُ لِلَّهِ رَكْعَةً، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً ".مخارق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ سے گزرا اور حج کا ارادہ رکھتا تھا۔ میں ان کے گھر میں داخل ہوا تو میں نے ان کو پایا کہ وہ خفیف قیام والی نماز پڑھ رہے ہیں جیسے ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] اور ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] لیکن رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں، جب انہوں نے نماز پوری کی تو میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ قیام تھوڑا اور رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ یا ایک رکوع کرتا ہے تو اللہ اس کی غلطی مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔“