کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«الإيمان: أن تؤمن بالله وملائكته وكتابه وبلقائه وبرسله وتؤمن بالبعث الآخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتاب، اس سے ملاقات اور اس کے رسولوں پر یقین رکھو، اور تم مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر بھی ایمان لاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2796
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢.
«الإيمان: أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور تم تقدیر کی اچھائی اور برائی پر بھی یقین رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٣] عن عمر.
«الإيمان: أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وتؤمن بالجنة والنار والميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت وتؤمن بالقدر خيره وشره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور جنت، دوزخ اور میزان (اعمال تولنے کے ترازو) پر یقین رکھو، نیز مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لاؤ اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر بھی یقین رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن عمر.
[الإيمان بضع وسبعون بابا فأدناها إماطة الأذى عن الطريق وأرفعها قول: لا إله إلا الله]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان کے ستر سے زائد دروازے (شعبے) ہیں، ان میں سے سب سے ادنیٰ درجے کا کام راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور سب سے بلند درجہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦٩: حم، ابن ماجه، أبو عبيد.
«الإيمان بضع وسبعون شعبة فأفضلها قول: لا إله إلا الله وأدناها إماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الإيمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، پس ان میں سے سب سے افضل بات «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار کرنا ہے اور سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے، اور حیاء بھی ایمان کی ایک اہم شاخ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦٩: خد، مختصر مسلم ٣٠.
«الإيمان بضع وستون شعبة والحياء: شعبة من الإيمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان کی ساٹھ سے زائد شاخیں ہیں، اور حیاء بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٦٩: مختصر مسلم ١٣٠.
«الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان دھوکے سے اچانک قتل کرنے کے راستے میں رکاوٹ ہے، کوئی مومن کسی کو دھوکے سے قتل نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ د ك] عن أبي هريرة [حم] عن الزبير ومعاوية. إيمان أبي عبيد ٣٦/٦٥، المشكاة ٣٥٤٨.
«الإيمان يمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یمنی ہے (یعنی اہل یمن کے ایمان کا مقام بہت بلند ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2803
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي٢ مسعود. خ ٣/١٧، ٤٧٣، م ١/٥١: حم ٥/٢٧٣.
«الإيمان يمان ألا إن القسوة وغلظ القلوب في الفدادين عند أصول أذناب الإبل حيث يطلع قرنا الشيطان في ربيعة ومضر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یمنی ہے۔ سن لو! بے شک سختی اور دلوں کا کٹھور پن اونٹوں کے پیچھے چلنے والے شور مچانے والے چرواہوں میں ہے، جہاں شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں، (یعنی) قبیلہ ربیعہ اور مضر میں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي مسعود. حم ٥/٢٧٣، خ ٣/١٧٠، ٤٧٣، مختصر مسلم ٣٩.
«الإيمان يمان والفتنة هاهنا وهاهنا يطلع قرن الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان تو یمنی ہے، البتہ فتنے اس طرف ہیں اور اسی جگہ (مشرق کی طرف) سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. خ ٣/١٧٠، ١٧٣: حم ٢/٢٥٢، م ١/٥٢، مختصر مسلم ٣٩ نحوه.
"الإيمان يمان والكفر قبل المشرق والسكينة لأهل الغنم والفخر والرياء في الفدادين أهل الخيل وأهل الوبر
يأتي المسيح إذا جاء دبر أحد صرفت الملائكة وجهه قبل الشام وهنالك يهلك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان یمنی ہے، کفر مشرق کی جانب ہے، بکریوں کے پالنے والوں کے لیے سکون اور وقار ہے، جبکہ فخر اور ریاکاری شور مچانے والے گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکان میں ہے۔ (پھر فرمایا:) مسیح (دجال) آئے گا، اور جب وہ جبلِ احد کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٧٧٠: حم، مختصر مسلم ٢٩ نحوه.
«الأيمن فالأيمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دائیں جانب والے کا حق پہلے ہے، پھر (اس کے بعد آنے والے) دائیں جانب والے کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ٤] عن أنس. الصحيحة ١٧٧١: الطيالسي، الدارمي، أبو عوانة، ابن سعد، الدولابي.
«الأيمنون الأيمنون الأيمنون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دائیں جانب والے ہی (پہلے حقدار ہیں)، دائیں جانب والے ہی (پہلے حقدار ہیں)، دائیں جانب والے ہی (پہلے حقدار ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس. الصحيحة ١٧٧١: حم، مختصر مسلم ١٢٩٠.
«الأيم أحق بنفسها من وليها والبكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شوہر دیدہ (بیوہ یا طلاق یافتہ) عورت اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کے فیصلے کا زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے بھی اس کے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی، اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم م ٤] عن ابن عباس. الصحيحة ١٢١٦: الدارمي، قط، مختصر مسلم ٨٠٣.