مستدرکِ حاکم
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ باب: قتال کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت
حدیث نمبر: 3008
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل ابن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد وأحمد بن جَميل المروَزي وعَبْدة بن سليمان الطَّرَسوسي قالوا: حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا سعيد بن يزيد أبو شُجَاع، عن أبي السَّمْح درَّاج بن سِمْعان، عن أبي الهيثم سليمان بن عمرو بن عبد العُتْواري، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ: ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [المؤمنون: 104] قال: "تَشْوِيهِ النارُ فتَقلِصُ شَفَتُه العُليا حتى تَبْلُغَ وَسَطَ رأسِه، وتَسترخي شفتُه السُّفلى حتى تَبلُغَ سُرَّتَه" (2).
هذا حديث صحيح من إسناد المِصريين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ ”اور وہ اس (دوزخ) میں بدشکل بنے ہوں گے“ [سورة المؤمنون: 104] کے بارے میں فرمایا: ”آگ انہیں اس طرح جھلسا دے گی کہ ان کا اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف تک آ جائے گا۔“
یہ مصری راویوں کی سند کے ساتھ صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سمعت أبا العبَاس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العبَّاس بن محمد الدُّورِي يقول: سألتُ يحيى بن مَعِين عن أحاديث درَّاج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد، فقال: هذا إسناد صحيح (3).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد الدوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے دراج عن ابی الہیثم عن ابی سعید کی احادیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سند صحیح ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السمح عن أبي الهيثم.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف ابو السمح کی ابو الہیثم سے روایت کی وجہ سے ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11836)، والترمذي (2587) و (3176) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي. وسيأتي برقم (3532).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11836)، اور ترمذی (2587) اور (3176) نے عبد اللہ بن المبارک سے دو طریقوں کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔ یہ روایت آگے نمبر (3532) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف ابو السمح کی ابو الہیثم سے روایت کی وجہ سے ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11836)، والترمذي (2587) و (3176) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي. وسيأتي برقم (3532).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11836)، اور ترمذی (2587) اور (3176) نے عبد اللہ بن المبارک سے دو طریقوں کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔ یہ روایت آگے نمبر (3532) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3008 سے ماخوذ ہے۔