المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ باب: قتال کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت
حدیث نمبر: 3009
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد المالكي بالرَّي، حدثنا سُوَيد بن سعيد الأنباري، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن خُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَيٍّ، عن عبد الرحمن بن غَنْم قال: سألتُ معاذًا عن قول الله: ﴿مَا كَانَ يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ﴾ أو (نُتَّخَذَ)؟ قال: سمعت النبي ﷺ يقرأ: ﴿أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِكَ﴾ [الفرقان: 18]؛ بنَصْب النون (1).
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ یہ لفظ «نَتَّخِذَ» ( «نون» کے زبر کے ساتھ) ہے یا «نُتَّخَذَ» ؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو اسے «نون» کے زبر کے ساتھ ﴿أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِكَ﴾ ”کہ ہم آپ کے سوا (کسی کو اپنا ولی) بنائیں“ تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔“ [سورة الفرقان: 18]
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف، محمد بن سعيد - وهو الشامي المصلوب - هالك متَّهم بالكذب، وبكر بن خنيس ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/انتہائی ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن سعید (جو الشامی المصلوب ہے) "ہالک" ہے اور جھوٹ کا متہم ہے، اور بکر بن خنیس "ضعیف" ہے۔
وقرأ (نُتَّخذَ) بضم النون وفتح الخاء أبو جعفر يزيد بن القعقاع من العشرة، انظر "النشر في القراءات العشر" لا ابن الجزري 2/ 333.
مجموعی اصول / قاعدہ: (نُتَّخذَ) کو نون کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ قراء عشرہ میں سے ابو جعفر یزید بن القعقاع نے پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو ابن الجزری کی "النشر فی القراءات العشر" 2/ 333۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/انتہائی ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن سعید (جو الشامی المصلوب ہے) "ہالک" ہے اور جھوٹ کا متہم ہے، اور بکر بن خنیس "ضعیف" ہے۔
وقرأ (نُتَّخذَ) بضم النون وفتح الخاء أبو جعفر يزيد بن القعقاع من العشرة، انظر "النشر في القراءات العشر" لا ابن الجزري 2/ 333.
مجموعی اصول / قاعدہ: (نُتَّخذَ) کو نون کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ قراء عشرہ میں سے ابو جعفر یزید بن القعقاع نے پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو ابن الجزری کی "النشر فی القراءات العشر" 2/ 333۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3009 سے ماخوذ ہے۔