کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارودي، حدثنا إسماعيل بن زكريا الأصبهاني بالرَّيِّ، حدثنا مِهران بن أبي عُمَر، حدثنا سفيان، عن قابوس بن أبي ظَبْيان عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: مَكَثَ النبيُّ ﷺ بمكة عشرَ سنين (1) نبيًّا، فنزلت عليه: (أَدخِلْنِي مَدخَلَ صِدقٍ وأَخْرِجْنِي مَخرَجَ صَدقٍ) [الإسراء: 80]- بفتح الميم - فهاجَرَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2956 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2956 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں دس سال تک بحیثیتِ نبی ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَدْخَلَنِي مَدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرَجَنِي مَخْرَجَ صِدْقٍ﴾ ”(اے میرے رب!) مجھے خوبی کے ساتھ داخل کرنا اور خوبی کے ساتھ نکالنا“ [سورة الإسراء: 80] اس میں «ميم» پر زبر (فتحہ) ہے، پھر آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا علي بن حَكِيم الأوْدي، حدثنا إسحاق بن يوسف، عن حمزة بن حَبيب، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ: أَنَّ رسول الله ﷺ قرأ ﴿قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا﴾ [الكهف: 76]؛ مهموزتَينِ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. إنما اتَّفقا (1) على حديث عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ قصةَ موسى والخَضِر بطوله، وليس فيه ذِكرُ الهمزتين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2957 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. إنما اتَّفقا (1) على حديث عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ قصةَ موسى والخَضِر بطوله، وليس فيه ذِكرُ الهمزتين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2957 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (لفظ «سالتك» کو) دو ہمزہ کے ساتھ ﴿قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا﴾ ”اس نے کہا: اگر اب میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں (تو مجھے ساتھ نہ رکھیے گا)“ تلاوت فرمایا۔ [سورة الكهف: 76]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف عمرو بن دینار کی روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سیدنا موسیٰ اور خضر علیہما السلام کا قصہ تفصیل سے ہے لیکن اس میں دو ہمزہ کا ذکر نہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف عمرو بن دینار کی روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سیدنا موسیٰ اور خضر علیہما السلام کا قصہ تفصیل سے ہے لیکن اس میں دو ہمزہ کا ذکر نہیں۔
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا أبو عِمران موسى بن هارون، حدثني عمرو بن محمد الناقد، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (لو شئتَ لَتَخِذْتَ عليه أَجْرًا) [الكهف: 77]؛ مخفَّفة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (3)، إنما في الحديث الطويل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2958 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (3)، إنما في الحديث الطويل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2958 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (لفظ «لتخذت» کو «تاء» کی تشدید کے بغیر) تخفیف کے ساتھ تلاوت فرمایا: ﴿لَوْ شِئْتَ لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾ ”اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔“ [سورة الكهف: 77]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا بلکہ یہ طویل حدیث کا حصہ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا بلکہ یہ طویل حدیث کا حصہ ہے۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو جعفر محمد بن الحسين بن حفص الخَثعَمي بالكوفة، حدثنا هارون بن حاتم، حدثنا سُلَيم بن عيسى، عن حمزة الزَّيَّات، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ كان يقرأ: (وكان أمامهم مَلِكٌ يأخذُ كلَّ سفينةٍ صالحةٍ غَصْبًا) [الكهف: 79] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2959 - فيه هارون بن حاتم واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2959 - فيه هارون بن حاتم واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (سورہ کہف کی آیت 79 کو) اس طرح تلاوت فرماتے تھے: ﴿وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا﴾ ”اور ان کے سامنے ایک ایسا بادشاہ تھا جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔“ [سورة الكهف: 79]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك البزَّار، حدثنا أبو صالح عبد الغفار بن داود الحرَّاني، حدثنا حماد سَلَمة، بن عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ كان يقرأ: ﴿فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ﴾ [الكهف: 86] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2960 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2960 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (لفظ «حمئة» کو ہمزہ کے ساتھ) یوں تلاوت فرماتے تھے: ﴿فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ﴾ ”ایک کیچڑ والے چشمے میں۔“ [سورة الكهف: 86]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الحَكَم بن عُتَيبة، عن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه، عن أبي ذر قال: كنت رِدْفَ رسول الله ﷺ وهو على حمار، فرأى الشمس حين غَرَبَت فقال: "يا أبا ذرٍّ، أين تَغرُبُ هذه؟ " قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال: "فإنها تَغرُبُ في عينٍ حاميةٍ"؛ غيرَ مهموزة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2961 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2961 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا، آپ ﷺ نے سورج کو غروب ہوتے دیکھا تو فرمایا: ”اے ابوذر! یہ کہاں غروب ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک یہ ایک گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے،“ یہاں آپ ﷺ نے لفظ («حامية») کو ہمزہ کے بغیر تلاوت فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا خلف بن هشام، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لا أدري كيف قرأَ رسولُ الله ﷺ: (عُتِيًّا) [مريم: 8، 69] أو (جُثِيًّا) [مريم: 68، 72]، فإنهما جميعًا بالضمِّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2962 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2962 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ان الفاظ کو) کیسے تلاوت فرمایا: ﴿عُتِيًّا﴾ [سورة مريم: 8، 69] یا ﴿جُثِيًّا﴾ [سورة مريم: 68، 72]، کیونکہ یہ دونوں لفظ («عين» اور «جيم» کے) ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن عُبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوهَب، عن مالك بن أبي الرِّجَال: أنَّ عائشةَ كانت تُرسِلُ بالشيء صدقةً لأهل الصُّفَّة وتقول: لا تُعطُوا منهم بَربَريًّا ولا بَربَريَّةً، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "هم الخَلْفُ الذين قال الله ﷿: (فَخَلَفَ مِن بَعدِهم خَلْفٌ أضاعوا الصَّلَوَاتِ (2) ([مريم: 59] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2963 - عبيد الله مختلف في توثيقه ومالك لا أعرفه ثم هو منقطع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2963 - عبيد الله مختلف في توثيقه ومالك لا أعرفه ثم هو منقطع
حافظ طلحہ بابر
مالک بن ابی الرجال سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل صفہ کے لیے صدقہ بھیجا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں: ان میں سے کسی بربری مرد یا عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”یہ وہ ناخلف لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَوَاتِ﴾ ”پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ آ گئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا۔“ [سورة مريم: 59]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد ابن إبراهيم العَبْدي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة الحرَّاني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد الحرَّاني، عن مكحول، عن أبي أُمامة: أنَّ رسول الله ﷺ قرأ: (تَكادُ السماواتُ يَنفَطِرْنَ منه) بالياء والنون ﴿وَتَخِرُّ الْجِبَالُ﴾ بالتاء ﴿أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (91) وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا﴾ [مريم: 90 - 92] مفتوحة (أن) (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2964 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2964 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سورہ مریم کی درج ذیل آیات کو) ان الفاظ کے ساتھ تلاوت فرمایا: ﴿تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَنْفَطِرْنَ مِنْهُ﴾ اس میں لفظ «ينفطرن»“ کو «ياء» اور «نون» کے ساتھ، اور ﴿وَتَخِرُّ الْجِبَالُ﴾ کو «تاء» کے ساتھ، اور ﴿أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا﴾ میں لفظ «اَنْ» کو فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا۔ [سورة مريم: 90 - 92]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا عُبيد بن غَنَّام بن حفص بن غِيَاث، حدثنا عُبيد بن يَعِيش، حدثنا محمد بن فُضيل، عن عاصم، عن زِرٍّ قال: قرأَ رجلٌ على عبد الله (طه) مفتوحةً، فأخذها عليه عبد الله (طِهِ) مكسورةً، فقال له الرجل: إنما يعني: ضَعْ رِجلَك، مفتوحةً، فقال عبد الله: هكذا قرأَها رسول الله ﷺ وهكذا أنزلها جبريلُ ﵇ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورواه محمد بن عبيد الله بن عاصم بإسناده، وقال فيه: فقال عبد الله: والله لَهكذا علَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2965 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورواه محمد بن عبيد الله بن عاصم بإسناده، وقال فيه: فقال عبد الله: والله لَهكذا علَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2965 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
زر بن حبیش سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے (سورہ طہ کے آغاز میں) لفظ «طٰهٰ» کو فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا، تو عبداللہ بن مسعود نے اسے کسرہ (زیر) کے ساتھ «طِهِ» پڑھایا، اس شخص نے کہا: اس کا مطلب تو ”اپنے قدم رکھو“ ہے (اس لیے زبر ہونا چاہیے)، سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسی طرح (زیر کے ساتھ) پڑھایا ہے اور جبرئیل علیہ السلام اسی طرح لے کر نازل ہوئے تھے۔ [سورة طه: 1]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ محمد بن عبید اللہ بن عاصم کی روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسی طرح سکھایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ محمد بن عبید اللہ بن عاصم کی روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسی طرح سکھایا ہے۔“
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن أبي سعيد قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "تُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ كما قال الله ﷿: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96)] (2). قال ابن إسحاق: وفي قراءة عبد الله: (من كلِّ جَدَثٍ يَنسِلُون) بالجيم والثاء، مثل قوله: (مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ) [يس: 51] وهي القُبور.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2966 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2966 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یأجوج اور مأجوج (کی دیوار) کھول دی جائے گی جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔“ [سورة الأنبياء: 96] ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں یہ لفظ ( «حدب» کے بجائے) «جدث» ( «جيم» اور «ثاء» کے ساتھ) ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ﴾ ”وہ اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔“ [سورة يس: 51] اور «جدث» کے معنی قبر کے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا الحسن بن بِشْر البَجَلي، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قرأ: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى﴾ [الحج: 2] (3). قد أخرج البخاري (1) هذا الحديث عن عمر بن حفص بن غِيَاث، عن أبيه، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد: "يقول الله: يا آدمُ، أَخْرِجْ بَعْثَ النار"، والحديث بطوله، وفي آخره ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى﴾ وأصحُّ الحديثين الحديث الذي أخرجه الإمام البخاري.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى﴾ ”اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔“ [سورة الحج: 2]
امام بخاری نے یہ حدیث طویل قصے کے ساتھ روایت کی ہے جس کے آخر میں یہ آیت ہے، اور ان دونوں روایتوں میں سے امام بخاری کی روایت کردہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔
امام بخاری نے یہ حدیث طویل قصے کے ساتھ روایت کی ہے جس کے آخر میں یہ آیت ہے، اور ان دونوں روایتوں میں سے امام بخاری کی روایت کردہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔