حدیث نمبر: 3005
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مسلم البَطِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: لما أُخرِجَ النبيُّ ﷺ من مكة، قال أبو بكر: أخرَجوا نبيَّهم، إنا لله وإنا إليه راجعون، لَيَهلِكُنَّ، فأنزل الله: (أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتِلُونَ بأَنَّهُم ظُلِمُوا وإِنَّ اللهَ على نَصْرِهِم لَقَدِيرُ) [الحج: 39]، قال: وهي أول آيةٍ نَزَلَت في القتال (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد حدَّث به غيرُ أَبي حُذَيفة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2968 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو مکہ سے نکالا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا، إنا لله وإنا إليه راجعون، بیشک وہ ضرور ہلاک ہو جائیں گے،“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ ”اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً قادر ہے۔“ [سورة الحج: 39] ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ قتال (جہاد) کے بارے میں نازل ہونے والی سب سے پہلی آیت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے ابو حذیفہ کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی بیان کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3005
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النهدي. وقد سلف برقم (2407).» [ترقيم الرساله 3005] [ترقيم الشركة 2986] [ترقيم العلميه 2968]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النهدي. وقد سلف برقم (2407).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند ابو حذیفہ (جو موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2407) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3005 سے ماخوذ ہے۔