حدیث نمبر: 3010
وحدثنا أبو بكر بن داود (2)، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن خُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَي، عن عبد الرحمن بن غَنْم قال: سألتُ معاذَ بن جبل عن قول الله ﷿: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ أو (غَلَبَت)؟ فقال: أقرأَني رسول الله ﷺ: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ (3). لم نكتب الحديثين إلّا بهذا الإسناد، إلَّا أنَّ محمد بن سعيد الشامي ليس من شرط الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2973 - محمد بن سعيد هو المصلوب هالك وبكر بن خنيس متروك
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ «غُلِبَت» ہے یا «غَلَبَت»؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ﴿الم غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ ”رومی مغلوب ہو گئے۔“ ہی پڑھایا ہے۔ [سورة الروم: 1 - 2]
ہم نے یہ دونوں حدیثیں صرف اسی سند سے لکھی ہیں، مگر محمد بن سعید شامی اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف كسابقه
تخریج حدیث «إسناده تالف كسابقه،» [ترقيم الرساله 3010] [ترقيم الشركة 2991] [ترقيم العلميه 2973]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز) و (ص) و (ع): أبو بكر بن أبي داود، بزيادة لفظ "أبي"، وهو خطأ، والمثبت من (ب).
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "ابو بکر بن ابی داود" ہے جس میں لفظ "ابی" کا اضافہ غلطی ہے، درست متن نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے۔
(3) إسناده تالف كسابقه.
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح "تالف" (انتہائی ضعیف) ہے۔
والجمهور على قراءة (غُلِبَت) مبنيًا للمفعول، وقراءة (غَلَبَت) للفاعل شاذَّة.
مجموعی اصول / قاعدہ: جمہور کی قراءت (غُلِبَت) مجہول کے صیغے کے ساتھ ہے، جبکہ (غَلَبَت) معروف کے صیغے کے ساتھ پڑھنا "شاذ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3010 سے ماخوذ ہے۔