حدیث نمبر: 3011
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن فُضَيل بن مرزوق، عن عطيّة العَوْفي قال: قرأتُ على ابن عمر: ﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً﴾ [الروم: 54]، فقال ابن عمر: (اللهُ الذي خَلَقَكم من ضُعْفٍ ثم جَعَلَ من بعدِ ضُعْفٍ قوةً ثم جَعَلَ من بعدِ قوةٍ ضُعْفًا وشَيْبةً)، ثم قال ابن عمر قرأتُ على رسول الله كما قرأتَ علىَّ، فأخَذَ علىَّ كما أخذتُ عليك (1). تفرَّد به عطيّةُ العَوْفي ولم يَحتجَّا به، وقد احتَجَّ مسلم بالفُضَيل بن مرزوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2974 - لم يحتجا بعطية
حافظ طلحہ بابر

عطیہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً﴾ [سورة الروم: 54] (جس میں میں نے لفظ «ضعف» کو «ضاد» کے فتحہ یعنی زبر کے ساتھ پڑھا)، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ( «ضاد» کے ضمہ یعنی پیش کے ساتھ) «ضُعف» پڑھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اسے اسی طرح پڑھا تھا جیسے تم نے میرے سامنے پڑھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اسی طرح درست فرمایا جیسے میں نے تمہیں درست کیا ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے میں عطیہ عوفی منفرد ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے فضیل بن مرزوق سے احتجاج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3011
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العَوْفي. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العَوْفي. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3011] [ترقيم الشركة 2992] [ترقيم العلميه 2974]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العَوْفي. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف عطیہ بن سعد العوفی کی وجہ سے ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں ابو حذیفہ سے مراد "موسیٰ بن مسعود النہدی" ہیں، اور سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 9/ (5227)، وأبو داود (3978)، والترمذي (2936) من طرق عن فضيل بن مرزوق، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 9/ (5227)، ابو داود (3978)، اور ترمذی (2936) نے فضیل بن مرزوق سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وقراءة (ضُعْف) بضم الضاد في المواضع الثلاثة في قراءة السبعة غير عاصم وحمزة فقرآ: (ضَعْف) بفتحها فيهنَّ. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 508.
مجموعی اصول / قاعدہ: (ضُعْف) تینوں مقامات پر ضاد کے ضمہ کے ساتھ قراءت سبعہ میں سے عاصم اور حمزہ کے علاوہ باقی سب کی ہے، ان دونوں نے تینوں جگہ (ضَعْف) فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو "السبعۃ" ص 508۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3011 سے ماخوذ ہے۔