المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ باب: قتال کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت
حدیث نمبر: 3006
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي، حدثنا يحيى بن راشد عن خالد الحذَّاء، عن عبد الله ابن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبيه قال: قلت لعائشة: يا أمَّ المؤمنين، كيف كان رسول الله ﷺ يقرأ هذا الحرف: (والذين يَأْتُون ما أَتَوْا) [المؤمنون: 60]؟ قالت: أشهدُ لسمعت رسول الله يقرؤُها: (يَأْتُون) (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: یا ام المؤمنین! رسول اللہ ﷺ اس حرف کو کیسے پڑھتے تھے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا﴾؟ انہوں نے فرمایا: ”میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے «يأتون» ( «ياء» کے ساتھ) ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ [سورة المؤمنون: 60]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن راشد. وهو مكرر (2960).
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف یحییٰ بن راشد کی وجہ سے ہے۔ یہ روایت نمبر (2960) پر مکرر ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف یحییٰ بن راشد کی وجہ سے ہے۔ یہ روایت نمبر (2960) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3006 سے ماخوذ ہے۔