حدیث نمبر: 3003
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن أبي سعيد قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "تُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ كما قال الله ﷿: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96)] (2). قال ابن إسحاق: وفي قراءة عبد الله: (من كلِّ جَدَثٍ يَنسِلُون) بالجيم والثاء، مثل قوله: (مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ) [يس: 51] وهي القُبور.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2966 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یأجوج اور مأجوج (کی دیوار) کھول دی جائے گی جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔“ [سورة الأنبياء: 96] ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں یہ لفظ ( «حدب» کے بجائے) «جدث» ( «جيم» اور «ثاء» کے ساتھ) ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ﴾ ”وہ اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔“ [سورة يس: 51] اور «جدث» کے معنی قبر کے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث فيما سيأتي برقم (8714) مطوَّلًا لكن دون ذكر القراءة. وانظر تخريجه هناك.» [ترقيم الرساله 3003] [ترقيم الشركة 2984] [ترقيم العلميه 2966]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث فيما سيأتي برقم (8714) مطوَّلًا لكن دون ذكر القراءة. وانظر تخريجه هناك.
درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: انہوں نے آگے نمبر (8714) پر آنے والی طویل روایت میں سماع کی تصریح (تحدیث) کی ہے، لیکن وہاں قراءت کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔
والقراءة التي أشار إليها ابن إسحاق من القراءات الشاذَّة، وذكرها ابن جِنِّي في "المحتسب" 2/ 66.
مجموعی اصول / قاعدہ: وہ قراءت جس کی طرف ابن اسحاق نے اشارہ کیا ہے، "شاذ" قراءات میں سے ہے، اور اسے ابن جنی نے "المحتسب" 2/ 66 میں ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3003 سے ماخوذ ہے۔