المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مُكْثُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سِنِينَ نَبِيًّا باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے
حدیث نمبر: 2996
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو جعفر محمد بن الحسين بن حفص الخَثعَمي بالكوفة، حدثنا هارون بن حاتم، حدثنا سُلَيم بن عيسى، عن حمزة الزَّيَّات، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ كان يقرأ: (وكان أمامهم مَلِكٌ يأخذُ كلَّ سفينةٍ صالحةٍ غَصْبًا) [الكهف: 79] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2959 - فيه هارون بن حاتم واهحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (سورہ کہف کی آیت 79 کو) اس طرح تلاوت فرماتے تھے: ﴿وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا﴾ ”اور ان کے سامنے ایک ایسا بادشاہ تھا جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔“ [سورة الكهف: 79]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده ضعيف من أجل هارون بن حاتم ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"، ورفع هذا الخبر إلى النبي ﷺ منكر، والصواب أنه موقوف على ابن عبَّاس، فهو الذي كان يقرؤها كذلك كما رواه عمرو بن دينار عن سعيد بن جبير فيما أخرجه البخاري (3401) و (4725) ومسلم (2380) (170) والترمذي (3149) وابن حبان (6220). وهي قراءة شاذّة، وهي محمولة على التفسير.
درجۂ حدیث: ہارون بن حاتم کی وجہ سے اس کی سند "ضعیف" ہے، ذہبی نے "التلخیص" میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس خبر کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کرنا "منکر" ہے۔ درست بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس پر "موقوف" ہے؛ وہی اسے اس طرح پڑھتے تھے، جیسا کہ عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے جسے بخاری (3401) و (4725)، مسلم (2380) (170)، ترمذی (3149) اور ابن حبان (6220) نے تخریج کیا ہے۔ یہ ایک "شاذ" قراءت ہے اور اسے "تفسیر" پر محمول کیا جائے گا۔
درجۂ حدیث: ہارون بن حاتم کی وجہ سے اس کی سند "ضعیف" ہے، ذہبی نے "التلخیص" میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس خبر کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کرنا "منکر" ہے۔ درست بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس پر "موقوف" ہے؛ وہی اسے اس طرح پڑھتے تھے، جیسا کہ عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے جسے بخاری (3401) و (4725)، مسلم (2380) (170)، ترمذی (3149) اور ابن حبان (6220) نے تخریج کیا ہے۔ یہ ایک "شاذ" قراءت ہے اور اسے "تفسیر" پر محمول کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2996 سے ماخوذ ہے۔