حدیث نمبر: 2999
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا خلف بن هشام، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لا أدري كيف قرأَ رسولُ الله ﷺ: (عُتِيًّا) [مريم: 8، 69] أو (جُثِيًّا) [مريم: 68، 72]، فإنهما جميعًا بالضمِّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2962 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ان الفاظ کو) کیسے تلاوت فرمایا: ﴿عُتِيًّا﴾ [سورة مريم: 8، 69] یا ﴿جُثِيًّا﴾ [سورة مريم: 68، 72]، کیونکہ یہ دونوں لفظ («عين» اور «جيم» کے) ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2999
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 2999] [ترقيم الشركة 2980] [ترقيم العلميه 2962]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقرأهما بالضم من السبعة ابنُ كثير ونافع وأبو عمرو وابن عامر وعاصم في رواية أبي بكر عنه، وقرأ حمزة والكسائي وعاصم في رواية حفص عنه بكسر أولهما. انظر "السبعة" ص 407.
مجموعی اصول / قاعدہ: ان دونوں کو ضمہ (پیش) کے ساتھ قراء سبعہ میں سے ابن کثیر، نافع، ابو عمرو، ابن عامر، اور عاصم (بروایت ابی بکر) نے پڑھا ہے۔ جبکہ حمزہ، کسائی، اور عاصم (بروایت حفص) نے دونوں کے پہلے حرف کے کسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو "السبعۃ" ص 407۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2999 سے ماخوذ ہے۔