کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
حدثنا أبو العباس أحمد بن زياد الفقيه بالدامَغَان، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا سليمان بن حرب. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا شَيبان بن فَرُّوخ؛ قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "الرَّهنُ مَركُوبٌ ومَحلُوبٌ" (1). قال الأعمش: فذكرتُ ذلك لإبراهيم، فكَرِهَ أن يُنتَفَع بشيءٍ منه. هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لإجماع الثَّوْري وشُعبة على توقيفه عن الأعمش، وأنا على أصْلي الذي أصّلتُه في قَبُول الزيادة من الثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2347 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2347 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رہن رکھی ہوئی سواری پر سواری کی جائے گی اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جائے گا۔“ اعمش نے کہا کہ میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہوں نے رہن کی کسی بھی چیز سے نفع اٹھانے کو ناپسند کیا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ثوری اور شعبہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ اعمش سے موقوف ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں جو میں نے ثقہ راوی کی زیادتی کو قبول کرنے کے بارے میں طے کیا ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ثوری اور شعبہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ اعمش سے موقوف ہے، لیکن میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں جو میں نے ثقہ راوی کی زیادتی کو قبول کرنے کے بارے میں طے کیا ہے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن محمد بن حيّان الأنصاري، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن معاوية الكَرَابيسي، حدثنا هشام بن يوسف الصنعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن ابنِ كعب بن مالك، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ حَجَرَ على معاذ مالَه وباعه في دَينٍ عليه (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2348 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2348 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا مال ان کے ذمہ قرض کی وجہ سے روک لیا (قرقی کر لی) اور اسے ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کر دیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد القَبَّاني، حدثنا أبو بكر بن أبي عَتّاب الأعْيَن، حدثنا منصور بن سَلَمة أبو سَلَمة الخُزاعي، حدثنا عثمان بن عبد الله بن زيد بن جارية (1) الأنصاري، حدثنا عمِّي عَمرو بن زيد بن جارية، حدثني أبي زيدُ بن جارية: أنَّ رسول الله ﷺ استَصغَرَ ناسًا يوم أُحدٍ، منهم: زيد بن جارية - يعني نفسَه - والبراء بن عازب، وزيد بن أرقَم، وسعدٌ، وأبو سعيد الخُدْري، وعبد الله بن عمر، وذَكَرَ جابرَ بن عبد الله (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2349 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2349 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن کچھ لوگوں کو کم عمر ہونے کی وجہ سے (جنگ میں شرکت سے) روک دیا تھا، ان میں زید بن جاریہ یعنی وہ خود، براء بن عازب، زید بن ارقم، سعد، ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر شامل تھے، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن حماد، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة، عن النبي ﷺ، قال: "رُفع القلمُ عن ثلاثٍ: عن الصبيِّ حتى يَحتَلِم، وعن المَعتُوه حتى يُفِيق، وعن النائم حتى يَستيقِظ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2350 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2350 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے (اعمال لکھنے والا) قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، دوسرے معتوہ (جس کی عقل میں فتور ہو) سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اور تیسرے سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد الرازي، حدثنا الحارث بن مِسكين وأحمد بن عمرو، قالا: حدثنا ابن وهب، حدثنا جَرير بن حازم، عن سليمان بن مِهْران، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس، قال: مُرَّ على عليٍّ بمجنونة بني فلان قد زَنَتْ، وأَمَر عمرُ بن الخطّاب برَجْمِها، فردَّها عليُّ بن أبي طالب وقال لعمر: يا أميرَ المؤمنين، أمرتَ برَجْمِ هذه؟ قال: نعم، قال: أما تذكُرُ أنَّ رسول الله ﷺ قال: "رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عن المجنونِ المغلوبِ على عَقْله، وعن النائم حتى يَستيقِظ، وعن الصبيِّ حتى يَحتَلِم"؟ قال: صدقتَ، فخلَّى عنها (1). قال عبد الله (2): فالحَجْر على المجنون والمجنونة ممّا لا أعلمُ فيه خلافًا بين العلماء.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو فلاں کی ایک مجنونہ (پاگل عورت) کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزارا گیا جس نے زنا کیا تھا، جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تھا، تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لوٹا دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ نے اس عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک اس مجنون سے جس کی عقل پر (دیوانگی) غالب آ چکی ہو، دوسرے سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور تیسرے بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے؟““ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے سچ کہا۔“ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجنون اور مجنونہ پر (تصرفِ مال سے) روک لگانا ان مسائل میں سے ہے جن میں مجھے علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصِّبْغي، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد الأعلى بن حماد، حدثنا عمر بن علي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: نزلت هذه الآية ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [النساء: 128] في رجلٍ كانت تحتَه امرأةٌ قد طالتْ صحبتُها ووَلَدت منه أولادًا، فأراد أن يَستبدِلَ بها، فراضَتْه على أن تَقِرَّ عنده ولا يَقسِمَ لها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2352 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2352 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ ”اور صلح بہتر ہے۔“ [سورة النساء: 128] ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے عقد میں ایک ایسی عورت تھی جس کی رفاقت طویل ہو چکی تھی اور اس سے اس کے بچے بھی تھے، پھر اس شخص نے اس کے بدلے دوسری بیوی لانے کا ارادہ کیا، تو اس عورت نے اس مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسے اپنے نکاح میں ہی برقرار رہنے دے اور وہ اس کے لیے (اپنی راتوں کی) تقسیم نہیں کرے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ سَوْدة جعلت يومَها لعائشة، وأحسَبُ في ذلك نزلت ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [النساء: 128] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2353 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2353 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا، اور میرا خیال ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی جانب سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو۔“ [سورة النساء: 128]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن المغيرة، حدثنا عبد الله بن نافع، عن عاصم بن عمر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: كانت الهُدْنةُ بين النبي ﷺ وبين أهلِ مكة بالحُدَيبِيَة أربعَ سنين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2354 - بل ضعيف فإن عاصما ضعفوه وهو أخو عبيد الله بن عمر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2354 - بل ضعيف فإن عاصما ضعفوه وهو أخو عبيد الله بن عمر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر صلح کی مدت چار سال تھی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ الخَولاني، عن عمرو بن مالك، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أنا زعيمٌ - والزعيم: الحَمِيل - لمن آمَن بي وأسلمَ وهاجرَ، ببيتٍ في رَبَضِ الجنة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2355 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2355 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں اس شخص کے لیے ایک گھر کا ضامن ہوں - اور زعیم سے مراد ضامن ہے - جو مجھ پر ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور ہجرت کی، جو جنت کے اطراف (ربض) میں ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الحَسَن محمد بن محمد بن الحسن، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إبراهيم بن عبد الله الهَرَوي، حدثنا هُشَيم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، عن أبيه، عن سمرة بن جُندُب، قال: أيَّمَتْ أمّي وقَدمتِ المدينةَ، فخَطَبها الناسُ، فقالت: لا أتزوجُ إلّا برجلٍ يَكفُل لي هذا اليتيمَ، فتزوجها رجلٌ من الأنصار. قال: فكان رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ غلمانَ الأنصار في كل عامٍ فيُلحِقُ من أدركَ منهم، قال: فعُرِضتُ عامًا، فألحق غُلامًا وردَّني، فقلتُ: يا رسول الله، لقد ألحقتَه ورَدَدْتَني، ولو صارعتُه لصَرَعتُه، قال: "فصارِعْه"، فصارعتُه فصَرَعتُه، فألحَقَني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2356 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2356 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میری والدہ بیوہ ہو گئی تھیں اور مدینہ تشریف لائیں، تو لوگوں نے انہیں نکاح کا پیغام دیا، جس پر انہوں نے کہا کہ میں صرف اسی شخص سے نکاح کروں گی جو اس یتیم بچے (یعنی سمرہ) کی کفالت کرے، چنانچہ ایک انصاری شخص نے ان سے نکاح کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر سال انصار کے نوجوان لڑکوں کا معائنہ فرماتے تھے اور ان میں سے جو (جسمانی طور پر) تیار پائے جاتے انہیں (فوجی دستوں میں) شامل کر لیتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سال مجھے بھی پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک لڑکے کو شامل کر لیا اور مجھے رد کر دیا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے شامل کر لیا اور مجھے رد کر دیا، حالانکہ اگر میں اس سے کشتی لڑوں تو اسے پچھاڑ دوں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اس سے کشتی لڑو۔“ چنانچہ میں نے اس سے کشتی لڑی اور اسے پچھاڑ دیا، تو آپ ﷺ نے مجھے بھی شامل فرما لیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔