المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ باب: گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2383
حدثنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصِّبْغي، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد الأعلى بن حماد، حدثنا عمر بن علي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: نزلت هذه الآية ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [النساء: 128] في رجلٍ كانت تحتَه امرأةٌ قد طالتْ صحبتُها ووَلَدت منه أولادًا، فأراد أن يَستبدِلَ بها، فراضَتْه على أن تَقِرَّ عنده ولا يَقسِمَ لها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2352 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ ”اور صلح بہتر ہے۔“ [سورة النساء: 128] ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے عقد میں ایک ایسی عورت تھی جس کی رفاقت طویل ہو چکی تھی اور اس سے اس کے بچے بھی تھے، پھر اس شخص نے اس کے بدلے دوسری بیوی لانے کا ارادہ کیا، تو اس عورت نے اس مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسے اپنے نکاح میں ہی برقرار رہنے دے اور وہ اس کے لیے (اپنی راتوں کی) تقسیم نہیں کرے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح وأبو العباس محمد بن إسحاق - وهو أخو الحافظ أبي بكر أحمد بن إسحاق الصِّبغي - كان سماعه صحيحًا كما يفيده كلام الحاكم فيما نقله عنه السمعاني في "الأنساب" في رسم الصِّبغي. عمر بن علي: هو المقدَّمي.
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے؛ راوی ابو العباس الصبغی کا سماع معتبر اور صحیح ثابت ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1974) عن حفص بن عمرو الرَّبَالي، عن عُمر بن علي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (1974) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (2450) و (2694) و (4601) و (5206)، ومسلم (3021)، والنسائي (11060) من طرق عن هشام بن عروة، به. وعندهم: أنها نزلت في الرجل تكون عنده المرأة … إلخ، فهذا على العموم، وليس واقعة عين كما هو ظاهر رواية المصنف.
حوالہ / مصدر: بخاری، مسلم اور نسائی میں ہشام بن عروہ کے طریق سے مروی ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس بیوی ہو (اور وہ اسے چھوڑنا چاہے)۔ یہ ایک عمومی حکم ہے، کسی خاص فرد کا واقعہ نہیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے؛ راوی ابو العباس الصبغی کا سماع معتبر اور صحیح ثابت ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1974) عن حفص بن عمرو الرَّبَالي، عن عُمر بن علي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (1974) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (2450) و (2694) و (4601) و (5206)، ومسلم (3021)، والنسائي (11060) من طرق عن هشام بن عروة، به. وعندهم: أنها نزلت في الرجل تكون عنده المرأة … إلخ، فهذا على العموم، وليس واقعة عين كما هو ظاهر رواية المصنف.
حوالہ / مصدر: بخاری، مسلم اور نسائی میں ہشام بن عروہ کے طریق سے مروی ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس بیوی ہو (اور وہ اسے چھوڑنا چاہے)۔ یہ ایک عمومی حکم ہے، کسی خاص فرد کا واقعہ نہیں۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2383 سے ماخوذ ہے۔