حدیث نمبر: 2387
حدثنا أبو الحَسَن محمد بن محمد بن الحسن، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إبراهيم بن عبد الله الهَرَوي، حدثنا هُشَيم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، عن أبيه، عن سمرة بن جُندُب، قال: أيَّمَتْ أمّي وقَدمتِ المدينةَ، فخَطَبها الناسُ، فقالت: لا أتزوجُ إلّا برجلٍ يَكفُل لي هذا اليتيمَ، فتزوجها رجلٌ من الأنصار. قال: فكان رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ غلمانَ الأنصار في كل عامٍ فيُلحِقُ من أدركَ منهم، قال: فعُرِضتُ عامًا، فألحق غُلامًا وردَّني، فقلتُ: يا رسول الله، لقد ألحقتَه ورَدَدْتَني، ولو صارعتُه لصَرَعتُه، قال: "فصارِعْه"، فصارعتُه فصَرَعتُه، فألحَقَني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2356 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میری والدہ بیوہ ہو گئی تھیں اور مدینہ تشریف لائیں، تو لوگوں نے انہیں نکاح کا پیغام دیا، جس پر انہوں نے کہا کہ میں صرف اسی شخص سے نکاح کروں گی جو اس یتیم بچے (یعنی سمرہ) کی کفالت کرے، چنانچہ ایک انصاری شخص نے ان سے نکاح کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر سال انصار کے نوجوان لڑکوں کا معائنہ فرماتے تھے اور ان میں سے جو (جسمانی طور پر) تیار پائے جاتے انہیں (فوجی دستوں میں) شامل کر لیتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سال مجھے بھی پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک لڑکے کو شامل کر لیا اور مجھے رد کر دیا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے شامل کر لیا اور مجھے رد کر دیا، حالانکہ اگر میں اس سے کشتی لڑوں تو اسے پچھاڑ دوں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اس سے کشتی لڑو۔“ چنانچہ میں نے اس سے کشتی لڑی اور اسے پچھاڑ دیا، تو آپ ﷺ نے مجھے بھی شامل فرما لیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2387
درجۂ حدیث محدثین: عن هُشَيم بن بشير
تخریج حدیث «عن هُشَيم بن بشير، والروياني في "مسنده" (856) من طريق أبي الأحوص محمد بن حيان، وأبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (1135) عن زياد بن أيوب، وأبو نعيم في "رياضة الأبدان" (1)، وفي "معرفة الصحابة" (3578) و (7957) من طريق يعقوب بن إبراهيم، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 301 ...» [ترقيم الرساله 2387] [ترقيم الشركة 2369] [ترقيم العلميه 2356]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات، لكن أكثر من رواه عن هُشَيم جعلوه من حديث جعفر مرسلًا يحكي فيه قصة أم سمرة وابنها، وقد جزم ابن معين في "سؤالات ابن الجنيد" بأنَّ جعفرًا والد عبد الحميد - وهو جعفر بن عبد الله بن الحكم بن رافع بن سنان - لم يلق سمرة.
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ راوی ثقہ ہیں، مگر ہشیم کے اکثر شاگردوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن معین کے مطابق جعفر بن عبداللہ نے سمرہ بن جندب کو نہیں پایا (ملاقات ثابت نہیں)۔
وأخرجه البيهقي 9/ 22 و 10/ 18 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: بیہقی نے اسے حاکم نیشاپوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد بن حنبل في "العلل" (5708) عن إبراهيم بن عبد الله الهروي، به.

وأخرجه الطبراني في "الكبير" (6749) عن محمد بن عبدوس بن كامل، عن إبراهيم بن عبد الله الهروي، به. لكنه قال: عن جعفر: أنَّ أم سمرة، فذكره مرسلًا.

حوالہ / مصدر: عبداللہ بن احمد اور طبرانی کی روایات میں یہ صراحت ہے کہ یہ "مرسل" ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 219 من طريق محمد بن عيسى بن الطباع، عن هُشَيم به. فقال: عن سمرة بن جندب.
حوالہ / مصدر: امام طحاوی کی روایت میں سمرہ بن جندب کا نام موصولاً ذکر ہوا ہے۔
وأخرجه أحمد بن حنبل في "العلل" (5708) عن هُشَيم بن بشير، والروياني في "مسنده" (856) من طريق أبي الأحوص محمد بن حيان، وأبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (1135) عن زياد بن أيوب، وأبو نعيم في "رياضة الأبدان" (1)، وفي "معرفة الصحابة" (3578) و (7957) من طريق يعقوب بن إبراهيم، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 301 من طريق سعيد بن عبد الحميد بن جعفر، كلهم عن هُشَيم بن بشير، عن عبد الحميد بن جعفر، عن أبيه: أنَّ أم سمرة، فذكروه مرسلًا، وذكر أحمد بن حنبل أنه سمعه من هُشَيم مرتين كذلك.
ترجیح: امام احمد، رویانی اور ابو نعیم سمیت تمام نے اسے ہشیم سے "مرسل" ہی روایت کیا ہے، اور یہی راجح ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2387 سے ماخوذ ہے۔