حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن حَيَّان بن مُلاعِب ومحمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا وُهَيب، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن مجاهد، عن السائب بن أبي السائب: أنه كان شريكَ النبي ﷺ في أول الإسلام في التجارة، فلما كان يومُ الفتح قال: "مرحبًا بأخي وشَريكي، لا تُداري ولا تُمَاري"، وذكر باقي الحديث (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2357 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2357 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آغازِ اسلام میں تجارت میں نبی کریم ﷺ کے شریک (پارٹنر) تھے، پھر جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید میرے بھائی اور میرے شریک! جو نہ تو ٹال مٹول کرتا تھا اور نہ ہی بحث و تکرار کرتا تھا۔“ اور پھر باقی حدیث ذکر کی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عون محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصّفا، أخبرنا محمد بن علي بن زيد، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش بن أبي ربيعة، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن الصَّعْب بن جَثّامة: أنَّ رسول الله ﷺ حَمَى النَّقيعَ، وقال: "لا حِمَى إِلَّا للهِ ولرَسولِه" (1). قد اتفقا على حديث يونس عن الزُّهْري بإسناده: "لا حِمَى إِلَّا للهِ ولرسولِه"، ولم يُخرجاه هكذا، وهو صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2358 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجا منه آخره
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2358 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجا منه آخره
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقامِ نقیع کو (سرکاری چراگاہ کے لیے) محفوظ قرار دیا اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کے لیے کوئی محفوظ چراگاہ (حمٰی) نہیں ہے۔“ اگرچہ شیخین نے یونس کی زہری سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جس کے الفاظ ”اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمٰی نہیں ہے“ ہیں، لیکن انہوں نے اس مخصوص طریق سے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ سند صحیح ہے۔