حدیث نمبر: 2384
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ سَوْدة جعلت يومَها لعائشة، وأحسَبُ في ذلك نزلت ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [النساء: 128] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2353 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا، اور میرا خیال ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی جانب سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو۔“ [سورة النساء: 128]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2384
درجۂ حدیث محدثین: صحيح دون ذكر نزول الآية
تخریج حدیث «صحيح دون ذكر نزول الآية، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، فهو حسن الحديث. وقد توبع على ذكر جعل سودة يومها لعائشة.» [ترقيم الرساله 2384] [ترقيم الشركة 2366] [ترقيم العلميه 2353]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح دون ذكر نزول الآية، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، فهو حسن الحديث. وقد توبع على ذكر جعل سودة يومها لعائشة.
درجۂ حدیث: آیت کے نزول کے ذکر کے علاوہ باقی حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حضرت سودہؓ کا اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دینا دیگر روایات سے ثابت ہے۔
وأخرجه بأطول ممّا هنا أبو داود (2135) عن أحمد بن يونس، بهذا الإسناد. وهو بنحو الرواية الآتية عند المصنف برقم (2795) من طريق الحسن بن علي بن زياد عن أحمد بن يونس.
حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد نے اسے تفصیلی طور پر روایت کیا ہے اور یہ رقم (2795) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه دون ذكر الآية أحمد 40/ (24395)، ومسلم (1463) من طريق شريك النخعي، وأحمد 41/ (24477) من طريق عبد الله بن المبارك، والبخاري (5212)، ومسلم (1463) من طريق زهير بن معاوية، ومسلم (1463)، والنسائي (8885)، وابن حبان (4211) من طريق جرير بن عبد الحميد، ومسلم، وابن ماجه (1972) من طريق عقبة بن خالد، وابن ماجه (1972) من طريق عبد العزيز بن محمد الدراوردي، كلهم عن هشام بن عروة، به.

وأخرجه دون ذكر الآية أيضًا البخاري (2593)، وأبو داود (2138)، والنسائي (8874) من طريق الزُّهْري، عن عروة، به.

حوالہ / مصدر: کتبِ ستہ کے تمام ائمہ نے حضرت سودہؓ کے اپنی باری دینے کا واقعہ روایت کیا ہے، مگر اس میں آیت کے نزول کا تذکرہ نہیں ہے۔
وأخرج الترمذي (3040) من حديث ابن عباس، قال: خشيَت سودة أن يُطلِّقها النبي ﷺ، فقالت: لا تطلقني وأمسكني، واجعل يومي لعائشة، ففعل، فنزلت: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾. وحسَّنه الترمذي والحافظ في "الإصابة" 7/ 720.
حوالہ / مصدر: ترمذی نے ابن عباس سے روایت کیا کہ جب حضرت سودہؓ کو طلاق کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے اپنی باری عائشہؓ کو دے دی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾۔ امام ترمذی اور حافظ ابن حجر نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
والأصح في سبب نزول الآية العموم لا خصوص قصة سودة كما في الحديث السابق.
مجموعی اصول / قاعدہ: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس آیت کا سببِ نزول عمومی ہے، صرف حضرت سودہؓ کا واقعہ اس کی واحد وجہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2384 سے ماخوذ ہے۔