حدیث نمبر: 2377
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا زكريا بن عدي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر، قال: مات رجلٌ فغسّلناه وكفَّنّاه وحنّطناه، ووضعناه لرسول الله ﷺ حيث تُوضَع الجنائز عند مَقام جبريل، ثم آذَنّا رسولَ الله ﷺ بالصلاة عليه، فجاء معنا خُطًا، ثم قال: "لعلَّ على صاحبِكم دَينًا؟ " قالوا: نعم، دينارانِ، فتخلّف، فقال له رجلٌ منا يقال له أبو قَتَادة: يا رسول الله، هما عليَّ، فجعل رسولُ الله ﷺ يقول: "هما عليكَ وفي مالِكَ، الميتُ منهما بَريءٌ؟ " فقال: نعم، فصلَّى عليه، فجعل رسولُ الله ﷺ إذا لقيَ أبا قَتَادة يقول: "ما صنَعَتِ الديناران؟ "، حتى كان آخِرَ ذلك، قال: قد قَضَيتُهما يا رسول الله، قال: "الآن حين بَرَّدْتَ عليه جِلْدَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2346 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا، خوشبو لگائی اور اسے رسول اللہ ﷺ کے لیے مقامِ جبریل کے قریب جنازہ گاہ میں رکھ دیا، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ کو نماز جنازہ کی اطلاع دی، آپ ﷺ ہمارے ساتھ چند قدم تشریف لائے پھر فرمایا: ”شاید تمہارے ساتھی پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، دو دینار، تو آپ ﷺ پیچھے ہٹ گئے، پھر ہم میں سے ایک شخص نے جنہیں ابو قتادہ کہا جاتا تھا عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دونوں دینار میرے ذمے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا وہ تمہارے ذمے ہیں اور تمہارے مال میں سے ادا ہوں گے اور میت اس سے بری ہو جائے گی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تب آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ جب بھی ابو قتادہ سے ملتے تو پوچھتے: ”ان دو دیناروں کا کیا ہوا؟“ یہاں تک کہ آخر میں انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ ادا کر دیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تم نے اس کی جلد کو ٹھنڈک پہنچائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2377
درجۂ حدیث محدثین: صحيح دون قوله في آخر الحديث: "الآن حين برَّدتَ عليه جلدَه"
تخریج حدیث «صحيح دون قوله في آخر الحديث: "الآن حين برَّدتَ عليه جلدَه"، فقد انفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف يعتبر به، ولا يحتمل تفرد مثله بذلك، وقد روي الحديث عن جابر من وجه آخر بدونها، كما سيأتي. وقد حسَّن إسنادَ رواية ابن عقيل هذه غيرُ واحدٍ، كالمنذري ...» [ترقيم الرساله 2377] [ترقيم الشركة 2359] [ترقيم العلميه 2346]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح دون قوله في آخر الحديث: "الآن حين برَّدتَ عليه جلدَه"، فقد انفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف يعتبر به، ولا يحتمل تفرد مثله بذلك، وقد روي الحديث عن جابر من وجه آخر بدونها، كما سيأتي. وقد حسَّن إسنادَ رواية ابن عقيل هذه غيرُ واحدٍ، كالمنذري والنووي وابن مفلح، وهو كما قالوا باستثناء آخر الحديث.
درجۂ حدیث: حدیث کا آخری ٹکڑا "اب تم نے اس کی کھال ٹھنڈی کی ہے" (یعنی میت کا قرض ادا کر کے اسے عذاب سے بچایا) کے علاوہ باقی حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ آخری جملہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کی انفرادی روایت ہے جو کہ ضعیف ہے، تاہم منذر، نووی اور ابن مفلح نے اس سند کو مجموعی طور پر "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14536) من طريق زائدة بن قدامة، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، به.

وأخرجه أحمد (14159)، وأبو داود (3343)، والنسائي (2100)، وابن حبان (3064) من طريق معمر، عن الزُّهْري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر، بنحوه دون المرفوع آخر الحديث، وزاد: فلما فتح الله على رسوله ﷺ، قال: "أنا أَولى بكل مؤمن من نفسه، فمن ترك دينًا فعليَّ، ومن ترك مالًا فلورثته".

حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے زہری عن ابی سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں یہ اضافہ ہے کہ: "جو قرض چھوڑ کر مرے وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کا ہے"۔
وهو عند أحمد 13/ (7899)، والبخاري (5371)، ومسلم (1619)، وابن ماجه (2415)، والترمذي (1070)، والنسائي (2101)، وابن حبان (3063) من طرق عن الزُّهْري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة. والظاهر أنهما محفوظان جميعًا عن الزُّهْري، وإن اتحد مخرجهما، لأنَّ في حديث جابر عنده ذكر أبي قتادة، ثم إنَّ روايته في قصة معيّنة، خلافًا لحديث أبي هريرة، فحديثه عامّ بلفظ: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُؤتى بالرجل المتوفَّى عليه الدَّين. والله تعالى أعلم.
متابعات و شواہد: یہ روایت بخاری، مسلم اور دیگر کتبِ ستہ میں حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے۔ بظاہر جابر اور ابوہریرہ دونوں کی روایات اپنی جگہ محفوظ ہیں کیونکہ جابر کی روایت ایک خاص واقعے (ابو قتادہ) سے متعلق ہے جبکہ ابوہریرہ کی روایت عام ہے۔
وانظر لزامًا ما تقدم بالأرقام (2243 - 2246).
نوٹ / توضیح: اس حوالے سے سابقہ احادیث نمبر 2243 سے 2246 تک کا مطالعہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2377 سے ماخوذ ہے۔