کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن رَبِيعة بن يزيد (1)، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي أمامة الباهلي، عن رسول الله ﷺ قال: "عليكم بقِيام الليل، فإنه دَأْبُ الصالحين قبلَكم، وهو قُرْبةٌ لكم إلى ربِّكم، ومَكْفَرةٌ للسيئات، ومَنْهاةٌ عن الإثم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامِ لیل (تہجد) کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے گزرے ہوئے صالحین کا طریقہ ہے، یہ تمہارے لیے تمہارے رب کے قرب کا ذریعہ ہے، گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے والی چیز ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عبد الله بن صالح - وهو أبو صالح المصري كاتب الليث - سيئ الحفظ، وقال أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (346): هو حديث منكر، لم يروه غير معاوية، وأظنه من حديث محمد بن سعيد الشامي الأزدي، فإنه يروي هذا الحديث هو بإسناد آخر- قلنا: ومحمد بن سعيد ...» [ترقيم الرساله 1169] [ترقيم الشركة 1160]
أخبرني أبو تُراب أحمد بن محمد المذكِّر بالنَّوْقان، حدثنا تَمِيم بن محمد، حدثنا محمد بن أسلَم الزاهد، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت، عن أنس قال: وَجَدَ رسول الله ﷺ ذاتَ ليلة شيئًا، فلما أصبح قيل: يا رسول الله، إن أثَرَ الوجَع عليك لبيِّنٌ، قال: "أَمَا إنِّي على (1) ما تَرَون، بحمد الله قد قرأتُ السَّبعَ الطِّوال" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کو کچھ تکلیف محسوس ہوئی، جب صبح ہوئی تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پر تکلیف کے اثرات بالکل واضح ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ میں اسی حال میں ہوں جو تم دیکھ رہے ہو، لیکن اللہ کے فضل سے میں نے (آج رات) سات لمبی سورتیں (السبع الطوال) تلاوت کی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1170
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، مؤمل بن إسماعيل اتفق أكثر النقاد على أنه سيئ الحفظ كثير الخطأ، وقال البخاري: منكر الحديث- قلنا: وعلى هذا فإنه ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تفرد في هذا الحديث-» [ترقيم الرساله 1170] [ترقيم الشركة 1161]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، قال: سمعتُ يزيد بن خُمَير يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي قيس يقول: قالت لي عائشة: لا تَدَعْ قيام الليل، فإنَّ رسول الله ﷺ كان لا يَذَرُه، وكان إذا مَرِض أو كَسِل صلَّى قاعدًا (1).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: ”تہجد کی نماز کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، اور جب آپ ﷺ بیمار ہوتے یا تھکاوٹ محسوس کرتے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1171
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي» [ترقيم الرساله 1171] [ترقيم الشركة 1162]
وأخبرنا الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بِشْر بن خالد العَسْكري، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، فذكره بمثله: الإسنادَ والمتنَ جميعًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
(سابقہ حدیث کی تائید میں مروی روایت)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1172
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، الحسين بن علي: هو التميمي، ويقال له: حسينك، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خزيمة الإمام صاحب التصانيف، ومحمد بن جعفر: هو المعروف بغندر» [ترقيم الرساله 1172] [ترقيم الشركة 1163]
أخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "من حافَظَ على هؤلاء الصَّلواتِ المكتوبات، لم يُكتَب من الغافلين، ومن قرأ في ليلةٍ منة آيةٍ كُتب من القانتين" (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ان پانچوں فرض نمازوں کی پابندی کی، وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، اور جس نے ایک رات میں سو آیات تلاوت کیں، وہ اللہ کے فرمانبرداروں «قانتين» میں لکھ دیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف في رفعه ووقفه على أبي هريرة، واختلف في كونه عن أبي صالح عن أبي هريرة من قوله، أو عن أبي صالح عن كعب ، الأحبار من قوله، ورجح الأخير الدارقطني في "العلل" (1940)، وقد اضطرب متنه كما سيأتي بيانه في التخريج-» [ترقيم الرساله 1173] [ترقيم الشركة 1164]
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا سعد بن عبد الحميد بن جعفر، حدثنا عبد الرحمن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقبة، عن عُبيد الله بن سَلْمان، عن أبيه أبي عبد الله سلمانَ الأغرّ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "من صلَّى في ليلةٍ بمئة آية لم يُكتبْ من الغافلين، ومن صلَّى في ليلةٍ بمئتي آيةٍ فإنه يُكتبُ من القانتين المخلَصِين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک رات میں سو آیات کے ساتھ نماز پڑھی، وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، اور جس نے ایک رات میں دو سو آیات کے ساتھ نماز پڑھی، وہ اللہ کے مخلص فرمانبرداروں میں لکھ دیا جائے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1174
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل سعد بن عبد الحميد بن جعفر وشيخه عبد الرحمن بن أبي الزناد» [ترقيم الرساله 1174] [ترقيم الشركة 1165]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، حدثني سُلَيم بن عامر وضَمْرة ابن حَبِيب ونُعيم بن زياد، عن أبي أُمامةَ الباهلي، قال: حدثني عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وهو نازلٌ بعُكَاظ، فقلت: يا رسول الله، هل من دعوةٍ أقربُ من أخرى، أو ساعةٍ يُتَّقى أو ينبغي ذِكرُها؟ قال: "نَعَم، إنَّ أقربَ ما يكونُ الربُّ من العبد جوفَ الليلِ الآخِرَ، فإن استطعتَ أن تكون ممّن يذكُرُ الله في تلك الساعة فكُنْ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ عکاظ کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی دعا (قبولیت کے لحاظ سے) دوسری دعا سے زیادہ قریب ہے، یا کوئی ایسی گھڑی ہے جس کا لحاظ رکھا جائے یا جس میں ذکر کرنا بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، رب اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری درمیانی حصے میں ہوتا ہے، پس اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہو سکو تو ضرور ہو جاؤ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1175
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ابن وهب: هو عبد الله بن وهب بن مسلم» [ترقيم الرساله 1175] [ترقيم الشركة 1166]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثني أبي، حدثنا عبد القُدُّوس بن الحجّاج، حدثنا أبو بكر بن أبي مريم، عن عبد الله بن أبي قَيْس، عن أُمَّهات المؤمنين، أنهنَّ حدَّثْنه: أَنَّ الله دلَّ نبيَّه على دليل، فقال لهنَّ: ادْلُلنَني على ما دلَّ عليه نبيَّه ﷺ؟ فقلن: إنَّ الله دلَّه على قيام الليل (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس سے روایت ہے کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک (خاص) عمل کی طرف رہنمائی فرمائی، تو عبداللہ نے ان سے عرض کیا: مجھے بھی بتائیے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی کس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اللہ نے آپ ﷺ کی قیامِ لیل (تہجد) کی طرف رہنمائی فرمائی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1176
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم» [ترقيم الرساله 1176] [ترقيم الشركة 1167]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن القَعقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "رَحِم الله رجلًا قام من اللَّيل فصلَّى، وأيقَظَ امرأته، فإنْ أَبَتْ نَضَحَ في وجهها الماءَ، رَحِم الله امرأةً قامت من اللَّيل فصلَّتْ، وأيقظَتْ زوجَها، فإنْ أبى نَضَحَت في وجهه الماءَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس مرد پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، پھر اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بیدار کرے، پھر اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1177
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل ابن عجلان واسمه: محمد» [ترقيم الرساله 1177] [ترقيم الشركة 1168]
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْلُ، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن عبد الله بن عُبيد الله بن أبي مُلَيكة، عن يعلى بن مَمْلَك: أنه سأل أمَّ سَلَمة عن قراءة رسول الله ﷺ، وصلاتِه بالليل، فقالت: وما لكم وصلاتِه، كان يُصلي، ثم ينام قَدْرَ ما صلَّى، ثم يُصلي بقَدْرِ ما نام، ثم ينامُ قدرَ ما صلَّى، حتى يُصبح. ونَعتَتْ له قراءتَه، فإذا هي تَنعَتُ قراءةً مفسَّرةً حرفًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
یعلیٰ بن مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز اور قرأت کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا: تمہیں آپ ﷺ کی نماز (کی کیفیت) سے کیا لینا دینا؟ آپ ﷺ نماز پڑھتے، پھر جتنا وقت نماز پڑھی ہوتی اتنی دیر سوتے، پھر جتنی دیر سوئے ہوتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنا وقت نماز پڑھی ہوتی اتنی دیر سوتے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی قرأت کی صفت بیان کی تو وہ ایک ایک حرف کو الگ الگ کر کے واضح پڑھنے والی قرأت تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1178
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين، يعلى بن مملك تفرد بالرواية عنه ابن أبي مليكة، وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 1178] [ترقيم الشركة 1169]
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا عِمْران بن زائدة بن نَشِيط، عن أبيه، عن أبي خالد الوالِبي، عن أبي هريرة: أنه كان إذا قام من الليل رَفَعَ صوتَه طَوْرًا وخَفَضَه طَورًا، وكان يَذكُر أنَّ رسول الله ﷺ كان يَفعلُ ذلك (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب رات کو (تہجد کے لیے) کھڑے ہوتے تو کبھی اپنی آواز بلند کرتے اور کبھی پست رکھتے، اور وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1179
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل زائدة بن نشيط وأبي خالد الوالبي: واسمه هُرمز، وقيل: هَرِم» [ترقيم الرساله 1179] [ترقيم الشركة 1170]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الله بن أبي قيس حدثه: أنه سأل عائشةَ كيف كانت قراءة رسول الله ﷺ من الليل، أكان يَجهَر أم يُسِرّ؟ قالت: كلَّ ذلك كان يفعل، ربما جَهَر، وربما أسرَّ، قال: قلت: الحمد الله الذي جَعَل في الأمر سَعَةً (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدًا لحديث أبي خالد عن أبي هريرة.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو قرأت کیسے فرماتے تھے، کیا بلند آواز سے پڑھتے تھے یا خاموشی سے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ یہ دونوں طرح کیا کرتے تھے، کبھی بلند آواز سے تلاوت فرماتے اور کبھی خاموشی سے، تو میں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی سابقہ حدیث کا شاہد ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1180
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، عبد الله بن أبي قيس: هو أبو الأسود النَّصري» [ترقيم الرساله 1180] [ترقيم الشركة 1171]
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم القَنْطَري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِينيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت البُنانيّ، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي قَتادةَ: أنَّ النبيَّ ﷺ مَرَّ بأبي بكرٍ وهو يصلي يَخفِضُ من صوته، ومَرَّ بعُمر وهو يصلي رافعًا صوتَه، فلما اجتمعا عند النبي ﷺ قال لأبي بكر: "يا أبا بكر، مررتُ بكَ وأنتَ تصلي تخفِضُ من صوتك! " قال: قد أسمعتُ من ناجيتُ، فقال: "مررتُ بكَ يا عمر وأنت تَرفعُ صوتك! " قال: يا رسول الله أحتسِبُ به أُوقظُ الوَسْنان، قال: فقال لأبي بكر: "ارفَعْ من صوتك شيئًا"، وقال لعمر: "اخفِضْ من صوتك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ ﷺ کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ بلند آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، جب یہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میں جس سے مناجات کر رہا تھا اسے سنا دیا ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم آواز بلند کر رہے تھے!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا ہوں کہ اونگھنے والے کو بیدار کر دوں، راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ بلند کرو“، اور عمر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ دھیما کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1181
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شيخ المصنف، فهو حسن الحديث في المتابعات، وقد توبع- إلّا أنه اختُلف في وصله وإرساله، فقد خالف يحيى بن إسحاق السيلحيني موسى بنُ إسماعيل، فقد رواه عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن النبي ﷺ مرسلًا، ورجح المرسلَ الترمذي وابن أبي حاتم-» [ترقيم الرساله 1181] [ترقيم الشركة 1172]
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدلُ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن رافع ومحمد بن يحيى، قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن إسماعيل بن أمية، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد الخُدْري قال: اعتكف النبي ﷺ في المسجد، فسَمِعهم يَجهَرون بالقراءة، وهو في قُبَّةٍ له، فكَشَفَ السُّتور وقال: "ألا كلُّكم يناجي ربَّه، فلا يُؤذِينَّ بعضُكم بعضًا، ولا يَرفَعنَّ بعضُكم على بعضٍ في القراءة في الصلاة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں اعتکاف فرمایا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو بلند آواز میں قرأت کرتے ہوئے سنا جبکہ آپ ﷺ اپنے خیمے میں تھے، پس آپ ﷺ نے پردے ہٹائے اور فرمایا: ”خبردار! تم میں سے ہر کوئی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، پس تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ دے اور نہ ہی کوئی دوسرے کے مقابلے میں نماز کی قرأت میں اپنی آواز بلند کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، الحسين بن محمد بن زياد: هو القباني، ومحمد بن رافع: هو ابن أبي زيد النيسابوري، ومحمد بن يحيى: هو الذهلي، وإسماعيل بن أمية: هو ابن عمرو بن سعيد الأموي» [ترقيم الرساله 1182] [ترقيم الشركة 1173]
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا أبو كُرَيب وموسى بن عبد الرحمن المَسْروقي، قالا: حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سليمان، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن عَبْدة بن أبي لُبابة، عن سُوَيد بن غَفَلَة، عن أبي الدَّرْداء، يَبلُغ به النبيَّ ﷺ قال: "من أَتى فِراشَه وهو يَنْوي أن يقومَ بالليل فغَلَبتْه عينُه حتى يُصبحَ، كُتب له ما نَوَى، وكان نومُه صدقةً عليه من ربِّه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما علَّلاه بتوقيفٍ رُوِيَ عن زائدة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اسے نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر اس نیت سے آئے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا لیکن اس کی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو اس کے لیے وہ نیت لکھ دی جائے گی جس کا اس نے ارادہ کیا تھا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرے نزدیک انہوں نے اسے اس لیے معلول قرار دیا کیونکہ زائدہ سے یہ موقوف بھی مروی ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1183
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، إلّا أنه قد وقع اضطراب في إسناده، واختلف في رفعه ووقفه، وصحَّح الدارقطني وقفه» [ترقيم الرساله 1183] [ترقيم الشركة 1174]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، فذكره بإسناده من قول أبي الدَّرْداء (2). وهذا مما لا يُوهِن، فإنَّ الحسين بن علي الجُعْفي أقدمُ وأحفظُ وأعرفُ بحديث زائدة من غيره، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث ان کے اپنے قول (موقوف) کے طور پر مروی ہے، اور یہ بات حدیث کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ حسین بن علی جعفی زائدہ کی حدیث کے دیگر راویوں کی نسبت زیادہ قدیم، حافظ اور ماہر ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1184
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، وسلف قبله مرفوعًا، وقال الدارقطني في "العلل" 6/ 207: والمحفوظ الموقوف» [ترقيم الرساله 1184] [ترقيم الشركة 1175]
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا موسى بن عبد الرحمن، حدثنا حسين بن علي عن زائدة، عن هشام بن حسّان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تخُصُّوا يومَ الجمعة بصيام من بين الأيام، ولا تخُصُّوا ليلةَ الجمعة بقيامٍ من بين الليالي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنوں میں سے صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو اور نہ ہی راتوں میں سے صرف جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1185
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، موسى بن عبد الرحمن: هو ابن سعيد المسروقي، وحسين بن علي: هو الجعفي، وزائدة: هو ابن قدامة» [ترقيم الرساله 1185] [ترقيم الشركة 1176]