کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص دن میں بارہ رکعتیں پڑھتا ہے اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا شُعَيب بن الليث بن سعد، حدثنا الليث. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن محمد بن عَجْلان، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن عمرو بن أَوس (1) الثقفي، عن عَنْبَسة بن أبي سفيان، عن أخته أُم حبيبة زوج النبي ﷺ، عن رسول الله ﷺ قال: "من صلّى ثنتي عشرةَ ركعةً في يوم، بنى اللهُ له بيتًا في الجنة: أربعَ ركعاتٍ قبل الظُّهر، وركعتين بعد الظُّهر، وركعتين قبل العصر، وركعتين بعد المغرب، وركعتين قبل الصُّبح" (2)
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دن (اور رات) میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں عصر سے پہلے، دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں صبح (فجر) سے پہلے۔“
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أَبي أُسامة، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا فُلَيح بن سليمان، حدثنا سُهَيل بن أبي صالح، عن أبي إسحاق عمرو بن عبد الله، عن المسيَّب بن رافع، عن عَنْبَسة بن أبي سفيان، عن أُمِّ حَبيبة قالت: قال رسول الله ﷺ: "مَن صلَّى ثِنتي عشرة ركعةً، بنى الله له بيتًا في الجنة: أربعًا قبل الظُّهر، وثِنتَين بعدها، وركعتين قبل العصر، وركعتين بعد المغرِب، وركعتين قبل الصُّبح" (1). كلا الإسنادين صحيحان على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وشواهدها كلُّها صحيحة. فمنها متابعةُ النعمانِ بن سالم ومكحولٍ الفقيهِ المسيّبَ بنَ رافع. أما حديث النعمان بن سالم:
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرما دے گا: چار ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو عصر سے پہلے، دو مغرب کے بعد اور دو صبح سے پہلے۔“
یہ دونوں سندیں امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے تمام شواہد صحیح ہیں۔
یہ دونوں سندیں امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے تمام شواہد صحیح ہیں۔