حدیث نمبر: 1181
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم القَنْطَري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِينيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت البُنانيّ، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي قَتادةَ: أنَّ النبيَّ ﷺ مَرَّ بأبي بكرٍ وهو يصلي يَخفِضُ من صوته، ومَرَّ بعُمر وهو يصلي رافعًا صوتَه، فلما اجتمعا عند النبي ﷺ قال لأبي بكر: "يا أبا بكر، مررتُ بكَ وأنتَ تصلي تخفِضُ من صوتك! " قال: قد أسمعتُ من ناجيتُ، فقال: "مررتُ بكَ يا عمر وأنت تَرفعُ صوتك! " قال: يا رسول الله أحتسِبُ به أُوقظُ الوَسْنان، قال: فقال لأبي بكر: "ارفَعْ من صوتك شيئًا"، وقال لعمر: "اخفِضْ من صوتك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ ﷺ کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ بلند آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، جب یہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میں جس سے مناجات کر رہا تھا اسے سنا دیا ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم آواز بلند کر رہے تھے!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا ہوں کہ اونگھنے والے کو بیدار کر دوں، راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ بلند کرو“، اور عمر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ دھیما کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1181
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شيخ المصنف، فهو حسن الحديث في المتابعات، وقد توبع- إلّا أنه اختُلف في وصله وإرساله، فقد خالف يحيى بن إسحاق السيلحيني موسى بنُ إسماعيل، فقد رواه عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن النبي ﷺ مرسلًا، ورجح المرسلَ الترمذي وابن أبي حاتم-» [ترقيم الرساله 1181] [ترقيم الشركة 1172]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شيخ المصنف، فهو حسن الحديث في المتابعات، وقد توبع. إلّا أنه اختُلف في وصله وإرساله، فقد خالف يحيى بن إسحاق السيلحيني موسى بنُ إسماعيل، فقد رواه عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن النبي ﷺ مرسلًا، ورجح المرسلَ الترمذي وابن أبي حاتم.
درجۂ حدیث: (1) "صحیح لغیرہ" ہے؛ حاکم کے شیخ متابعات میں حسن ہیں، مگر اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ یحییٰ السیلحینی نے اسے موصول کیا جبکہ موسیٰ بن اسماعیل نے اسے مرسل روایت کیا، اور ترمذی و ابوحاتم کے نزدیک "مرسل" ہی راجح ہے۔
وأخرجه أبو داود (1329) عن الحسن بن الصباح، والترمذي (447) عن محمود بن غيلان، وابن حبان (733) من طريق محمد بن عبد الرحيم صاحب السابري، ثلاثتهم عن يحيى بن إسحاق السيلحيني، بهذا الإسناد. قال الترمذي: هذا حديث غريب، وإنما أسنده يحيى بن إسحاق عن حماد، وأكثر الناس إنما رووا هذا الحديث عن ثابت عن عبد الله بن رباح مرسلًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1329)، ترمذی (447) اور ابن حبان نے یحییٰ بن اسحاق السیلحینی کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "غریب" کہا اور فرمایا کہ اکثر راویوں نے اسے ثابت عن عبداللہ بن رباح سے "مرسل" نقل کیا ہے۔
قلنا: لم نقع إلى الآن على من رواه مرسلًا غير موسى بن إسماعيل، فقد رواه أبو داود (1329) عنه، عن حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن النبي ﷺ. هكذا لم يذكر ابن رباح ولا أبا قتادة. لكن تابع الترمذيَّ على ما ذهب إليه أبو حاتم الرازي، فقال - كما في "العلل" لابنه

(327) -: الصحيح عن عبد الله بن رباح: أنَّ النبي ﷺ … مرسلًا، أخطأ فيه السالحيني.

درجۂ حدیث: ہمیں ابھی تک صرف موسیٰ بن اسماعیل کی ہی مرسل روایت ملی ہے؛ تاہم ابوحاتم رازی نے بھی اس کے مرسل ہونے کو ہی درست قرار دیا ہے اور السیلحینی کی خطا قرار دی ہے۔
وله شاهد من حديث أبي هريرة عند أبي داود (1330)، وإسناده حسن.
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ کی ابوداؤد (1330) والی روایت اس کی شاہد ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
وآخر من حديث علي بن أبي طالب عند أحمد 2/ (865)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: حضرت علی کی مسند احمد (865/2) والی روایت اس کی شاہد ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1181 سے ماخوذ ہے۔