المستدرك على الصحيحين
كتاب صلاة التطوع— نوافل کا بیان
تَحْرِيصُ قِيَامِ اللَّيْلِ باب: قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1176
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثني أبي، حدثنا عبد القُدُّوس بن الحجّاج، حدثنا أبو بكر بن أبي مريم، عن عبد الله بن أبي قَيْس، عن أُمَّهات المؤمنين، أنهنَّ حدَّثْنه: أَنَّ الله دلَّ نبيَّه على دليل، فقال لهنَّ: ادْلُلنَني على ما دلَّ عليه نبيَّه ﷺ؟ فقلن: إنَّ الله دلَّه على قيام الليل (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس سے روایت ہے کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک (خاص) عمل کی طرف رہنمائی فرمائی، تو عبداللہ نے ان سے عرض کیا: مجھے بھی بتائیے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی کس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اللہ نے آپ ﷺ کی قیامِ لیل (تہجد) کی طرف رہنمائی فرمائی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم. يحيى بن محمد بن يحيى: هو الذهلي.
درجۂ حدیث: (1) ابوبکر بن ابی مریم کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ یحییٰ بن محمد سے مراد الذہلی ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (1138) عن محمد بن يحيى الذهلي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1138) نے محمد بن یحییٰ الذہلی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف معناه قريبًا (1171) من حديث عبد الله بن أبي قيس عن عائشة قالت: لا تدع قيام الليل، فإنَّ رسول الله ﷺ كان لا يذره.
متابعات و شواہد: اس کا ہم معنی مفہوم پہلے (1171) حضرت عائشہ کی روایت سے گزر چکا کہ آپ ﷺ قیامِ لیل کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔
درجۂ حدیث: (1) ابوبکر بن ابی مریم کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ یحییٰ بن محمد سے مراد الذہلی ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (1138) عن محمد بن يحيى الذهلي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1138) نے محمد بن یحییٰ الذہلی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف معناه قريبًا (1171) من حديث عبد الله بن أبي قيس عن عائشة قالت: لا تدع قيام الليل، فإنَّ رسول الله ﷺ كان لا يذره.
متابعات و شواہد: اس کا ہم معنی مفہوم پہلے (1171) حضرت عائشہ کی روایت سے گزر چکا کہ آپ ﷺ قیامِ لیل کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1176 سے ماخوذ ہے۔