المستدرك على الصحيحين
كتاب صلاة التطوع— نوافل کا بیان
تَحْرِيصُ قِيَامِ اللَّيْلِ باب: قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1171
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، قال: سمعتُ يزيد بن خُمَير يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي قيس يقول: قالت لي عائشة: لا تَدَعْ قيام الليل، فإنَّ رسول الله ﷺ كان لا يَذَرُه، وكان إذا مَرِض أو كَسِل صلَّى قاعدًا (1).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: ”تہجد کی نماز کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، اور جب آپ ﷺ بیمار ہوتے یا تھکاوٹ محسوس کرتے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوداؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی ہیں۔
وأخرجه أحمد 43/ (26114). وأخرجه أبو داود السجستاني (1317) عن محمد بن بشار، كلاهما (أحمد ومحمد) عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد. ووقع في رواية أحمد وهمٌ في تسمية عبد الله بن أبي قيس، فسُمِّي هناك: عبد الله بن أبي موسى، قال أحمد: وإنما هو عبد الله بن أبي قيس، وهو الصواب، مولى لبني نصر بن معاوية. انتهى، وعزا أبو حاتم هذا الوهم لشعبة، كما في "العلل" لابنه (242)، وكذا قال أحمد بإثر الحديث (24945) كما سيأتي في تخريج الحديث التالي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26114/43) اور ابوداؤد السجستانی (1317) نے ابوداؤد الطیالسی کی سند سے روایت کیا ہے۔ احمد کی روایت میں نام میں وہم ہوا ہے، درست نام "عبداللہ بن ابی قیس" ہے جیسا کہ امام احمد نے خود تصحیح فرمائی۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوداؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی ہیں۔
وأخرجه أحمد 43/ (26114). وأخرجه أبو داود السجستاني (1317) عن محمد بن بشار، كلاهما (أحمد ومحمد) عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد. ووقع في رواية أحمد وهمٌ في تسمية عبد الله بن أبي قيس، فسُمِّي هناك: عبد الله بن أبي موسى، قال أحمد: وإنما هو عبد الله بن أبي قيس، وهو الصواب، مولى لبني نصر بن معاوية. انتهى، وعزا أبو حاتم هذا الوهم لشعبة، كما في "العلل" لابنه (242)، وكذا قال أحمد بإثر الحديث (24945) كما سيأتي في تخريج الحديث التالي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26114/43) اور ابوداؤد السجستانی (1317) نے ابوداؤد الطیالسی کی سند سے روایت کیا ہے۔ احمد کی روایت میں نام میں وہم ہوا ہے، درست نام "عبداللہ بن ابی قیس" ہے جیسا کہ امام احمد نے خود تصحیح فرمائی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1171 سے ماخوذ ہے۔