حدیث نمبر: 1178
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْلُ، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن عبد الله بن عُبيد الله بن أبي مُلَيكة، عن يعلى بن مَمْلَك: أنه سأل أمَّ سَلَمة عن قراءة رسول الله ﷺ، وصلاتِه بالليل، فقالت: وما لكم وصلاتِه، كان يُصلي، ثم ينام قَدْرَ ما صلَّى، ثم يُصلي بقَدْرِ ما نام، ثم ينامُ قدرَ ما صلَّى، حتى يُصبح. ونَعتَتْ له قراءتَه، فإذا هي تَنعَتُ قراءةً مفسَّرةً حرفًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

یعلیٰ بن مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز اور قرأت کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا: تمہیں آپ ﷺ کی نماز (کی کیفیت) سے کیا لینا دینا؟ آپ ﷺ نماز پڑھتے، پھر جتنا وقت نماز پڑھی ہوتی اتنی دیر سوتے، پھر جتنی دیر سوئے ہوتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنا وقت نماز پڑھی ہوتی اتنی دیر سوتے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی قرأت کی صفت بیان کی تو وہ ایک ایک حرف کو الگ الگ کر کے واضح پڑھنے والی قرأت تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة التطوع / حدیث: 1178
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين، يعلى بن مملك تفرد بالرواية عنه ابن أبي مليكة، وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 1178] [ترقيم الشركة 1169]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين، يعلى بن مملك تفرد بالرواية عنه ابن أبي مليكة، وذكره ابن حبان في "الثقات".
درجۂ حدیث: (1) سند "تحسین" (حسن ہونے) کے قابل ہے؛ یعلیٰ بن مملك سے صرف ابن ابی ملیکہ نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26526) و (26564)، وأبو داود (1466)، والترمذي (2923)، والنسائي (1096) و (1379) و (8003) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب. وقال النسائي: يعلى بن مملك ليس بذاك المشهور.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26526/44)، ابوداؤد (1466)، ترمذی اور نسائی نے لیث بن سعد کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" کہا۔ نسائی نے کہا کہ یعلیٰ زیادہ مشہور راوی نہیں ہیں۔
وقال الترمذي: وقد روى ابن جريج هذا الحديث عن ابن أبي مليكة، عن أم سلمة: أنَّ النبي ﷺ كان يقطِّع قراءته، وحديث الليث أصح. انتهى، قلنا: قد اختلف على ابن جريج في إسناده ومتنه، فقد:
سندی اختلاف: ابن جریج نے اسے ابن ابی ملیکہ عن ام سلمہ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ قرات میں وقفہ (تقطیع) کرتے تھے؛ امام ترمذی کے نزدیک لیث کی روایت (پچھلی والی) زیادہ صحیح ہے۔
أخرج أحمد (26547) عن عبد الرزاق ومحمد بن بكر، و (26625) عن عبد الرزاق وحده، والنسائي (1326) من طريق عبد العزيز بن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، ثلاثتهم عن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، عن عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة، عن يعلى بن مملك: أنه سأل أم سلمة عن صلاة رسول الله ﷺ، فقالت: كان يصلي العتمة، ثم يسبح، ثم يصلي بعدها ما شاء الله من الليل، ثم ينصرف فيرقد مثل ما صلى، ثم يستيقظ من نومته تلك، فيصلي مثل ما نام، وصلاته تلك الآخرة تكون إلى الصبح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26547) اور نسائی (1326) نے ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ عشاء پڑھ کر سو جاتے، پھر اٹھ کر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر سوئے تھے، اور یہ سلسلہ صبح تک چلتا۔
وأخرج أحمد (26583)، وأبو داود (4001)، والترمذي (2927) من طريق يحيى بن سعيد الأموي، عن عبد الملك بن جريج، عن عبد الله بن أبي مليكة، عن أم سلمة: أنها سئلت عن قراءة رسول الله ﷺ فقالت: كان يقطِّع قراءته آية آية: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾. لم يذكر يعلى بن مملك، قال الترمذي: هذا حديث غريب، وليس إسناده بمتصل … وحديث الليث أصح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26583)، ابوداؤد (4001) اور ترمذی نے یحییٰ بن سعید الاموی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ ہر ہر آیت پر وقفہ کرتے تھے (مثلاً الحمد للہ کے بعد وقفہ، پھر الرحمن الرحیم...)۔ ترمذی نے اسے "غریب" اور منقطع کہا ہے۔
وأخرج أحمد (26742) عن عفان، عن همام بن يحيى، عن ابن جريج، عن ابن أبي مليكة، عن أم سلمة: أنَّ قراءة النبي ﷺ كانت بسم الله الرحمن الرحيم، حرفًا حرفًا، قراءة بطيئة. قطَّع عفان قراءته، ولم يذكر أيضًا يعلى بن مملك.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26742) نے ہمام بن یحییٰ عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ کی قرات حرف بحرف اور ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل کے ساتھ) ہوتی تھی۔
وأخرج أحمد (26451) من طريق نافع بن عمر الجمحي، عن ابن أبي مليكة: أنَّ بعض أزواج النبي ﷺ ولا أعلمها إلّا حفصة سئلت عن قراءة رسول الله ﷺ، فقالت: إنكم لا تطيقونها. قالت: الحمد لله رب العالمين، الرحمن الرحيم … تعني الترتيل.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26451) نے نافع بن عمر کی سند سے حضرت حفصہ (یا کسی اور زوجہ مطہرہ) سے روایت کیا کہ تم آپ ﷺ جیسی قرات کی طاقت نہیں رکھتے، کیونکہ وہ نہایت ترتیل سے پڑھتے تھے۔
وفي الباب عن أنس بن مالك أنه سئل عن قراءة النبي ﷺ، فقال: كان يمد مدًّا. أخرجه البخاري (5045) و (5046).
متابعات و شواہد: حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کی قرات میں "مد" (کھینچ کر پڑھنا) ہوتا تھا (بخاری 5045)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1178 سے ماخوذ ہے۔