کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات رات کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور جو حضرات فرماتے ہیں کہ دن کو داخل ہوا جائے
١٦٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يدخل مكة ليلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوا جائے۔
١٦٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يضرك دخلت مكة ليلًا أو نهارًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رات یا دن جب مرضی مکہ مکرمہ میں داخل ہو جاؤ کوئی نقصان نہیں۔
١٦٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح قال: دخلت مكة مع القاسم ليلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ میں حضرت قاسم کے ساتھ رات کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔
١٦٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن إبراهيم قال: كانوا يحبون أن يخرجوا من الكوفة ليلًا وأن يدخلوا مكة نهارًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اس بات کو پسند فرماتے تھے رات کے وقت کوفہ سے نکلا جائے اور دن کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوا جائے۔
١٦٢٩٤ - [[حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه دخل مكة ليلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
١٦٢٩٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حصين عن سالم أنه دخل مكة ليلًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم دن میں مکہ مکرم میں داخل ہوئے۔
١٦٢٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع [عن العمري عن نافع عن ابن عمر أنه دخل مكة نهارًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
١٦٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع] (١) عن سفيان عن سالم قال: دخلت مع سعيد بن جبير مكة ليلًا]] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے ساتھ رات کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔
١٦٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود أن (أباه) (١) كان يدخل مكة ليلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الاسود رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تھے۔
١٦٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حميد قال: سألت طاوسًا عن رجل دخل مكة ليلًا، فقال: أو ليس تلك الغنيمة الباردة؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا ٹھنڈک غنیمت نہیں ہے ؟ ! پھر میں نے حضرت قاسم اور حضرت عطاء سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ حضرات نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
١٦٣٠١ - (١) قال: وحدثني يعلى بن حكيم أن سعيد بن جبير قدم مكة ليلًا (وطاف) (٢) (فما علمنا به) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر رات کو مکہ تشریف لائے اور طواف فرمایا، پس ہمیں نہیں معلوم تھا اس کے متعلق، اور حضرت عمر بن عبد العزیز نے اسی طرح کیا۔
١٦٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن محمد بن عباد عن عبد اللَّه بن السائب قال: كنت أصلي بالناس في رمضان، فبينا أنا أصلي سمعت تكبير عمر على باب المسجد (١) قدم معتمرًا فدخل فصلّى خلفي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن السائب فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا کہ اچانک میں نے مسجد میں حضرت عمر کی آواز سنی جو عمرہ کر رہے تھے، آپ تشریف لائے اور میری اقتدا میں نماز ادا فرمائی۔
١٦٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن (مزاحم بن أبي مزاحم) (١) عن عبد العزيز بن عبد اللَّه بن خالد بن أسيد عن محرش الكعبي أن رسول اللَّه ﷺ اعتمر من الجعرانة، ثم أصبح بالجعرانة كبائت، فلما زالت الشمس ⦗٨٠⦘ راح في بطن سرف حتى جامع الطريق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محرش الکعبی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات گزارنے والے کی طرح صبح کی، جب سورج زائل ہونا شروع ہوا تو آپ بطن سرف میں چلے، یہاں تک کہ آپ نے راستوں کو ملا لیا۔
١٦٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن صالح بن أبي الأخضر عن رجل (١) يقال له خالد عن مولاة لهم عن جدتها أن الحسن والحسين قدما مكة ليلًا فطافا ثم خرجا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن ابی الاخضر سے مروی ہے کہ حضرات حسنین رات کے وقت مکہ مکرمہ تشریف لاتے، طواف فرماتے اور واپس تشریف لے جاتے۔
١٦٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إسماعيل بن أمية عن مزاحم (بن أبي مزاحم) (١) عن عبد العزيز بن عبد اللَّه بن (خالد) (٢) بن أسيد عن محرش أن النبي ﷺ اعتمر من الجعرانة ثم رجع إليها كبائت، قال: ورأيت ظهره فإنه سبيكة فضة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محرش سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی طرف لوٹے رات گزارنے والے کی طرح، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر مبارک کو دیکھا وہ چاندی کی دھات کی طرح چمک رہی تھی۔