کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد {فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ} کی تفسیر
❮
❯
١٦٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن إبراهيم أو مجاهد قال: القانع الذي يقنع بما بعث إليه، والمعتر الذي يتعرض لك يسألك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم یا حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ القانع سے مراد وہ شخص ہے کہ جو اس کی طرف بھیجا جائے اس پر قناعت کرے (اور مزید کا سوال نہ کرے) ، اور المعتر سے مراد وہ شخص ہے کہ جو تیرے سامنے آ کر تجھ سے سوال کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16307
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16307، ترقيم محمد عوامة 15830)
١٦٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عاصم قال: حدثني من سمع ابن عمرو هو بمنى، وتلا هذه الآية: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ [الحج: ٣٦]، قال: قال لغلام له معه: هذا القانع الذي يقنع بما آتيته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ میں اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے کہ { فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ } پھر اپنے غلام کے بارے میں کہا کہ یہ قانع ہے جو اس کے پاس آتا ہے اس پر قناعت کرتا ہے (سوال نہیں کرتا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16308، ترقيم محمد عوامة 15831)
١٦٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن خصيف عن مجاهد قال: القانع: [أهل مكة، والمعتر: الذي يعتريك فيسألك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قانع سے مراد مکہ مکرمہ والے ہیں اور المعتر سے مراد وہ شخص جو (محتاجی میں) سوال کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16309، ترقيم محمد عوامة 15832)
١٦٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: القانع] (١): الذي يقنع إليك، والمعتر: الذي يعتريك يريك نفسه ولا يسألك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ القانع وہ شخص ہے جو تیرے سے سوال نہ کرے اور المعتر وہ شخص ہے جو تجھے اپنا نفس دکھائے اور تیرے سے سوال نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16310
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16310، ترقيم محمد عوامة 15833)
١٦٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: القانع: السائل، والمعتر: (معتر) (١) البدن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ القانع سے مراد سوال کرنے والا ہے، اور المعتر سے مراد اپنا بدن دکھانے والا ہے، (بےسوالی) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16311
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16311، ترقيم محمد عوامة 15834)