١٦٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: كان عبد اللَّه إذا سعى في بطن الوادي قال: رب اغفر وارحم إنك أنت الأعز الأكرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جب بطن وادی میں سعی فرماتے تو یہ دعا پڑھتے تھے، رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ إنَّک أَنْتَ الأَعَزُّ الأَکْرَمُ ۔
١٦٢٨٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عبد اللَّه مثله] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
١٦٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن أبيه قال: كان (عمر) (١) إذا مر بالوادي بين الصفا والمروة سعى فيه حتى (يجاوزه) (٢) ويقول: رب اغفر وارحم وأنت الأعز الأكرم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر جب صفا ومروہ کی سعی فرماتے تو یہ دعا پڑھتے رہتے تھے یہاں تک کہ وہاں سے چلے جاتے تھے، رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الأَعَزُّ الأَکْرَمُ ۔
١٦٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام بن عروة أن أباه كان يقول وهو يسعى بين الصفا والمروة: ⦗٧٧⦘ اللهم إن هذا واحدا إن تما … أتمه اللَّه وقد أتما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ صفا ومروہ کی سعی کے دوران یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ بیشک یہ سب ایک ہے اگر مکمل ہو، اللہ نے اسے مکمل کیا اور بیشک اسے مکمل کیا۔
١٦٢٨٦ - [*] حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن بديل (ابن) (١) ميسرة عن صفية بنت شيبة عن أم ولد شيبة قالت: رأيت رسول اللَّه ﷺ يسعى بين الصفا والمروة وهو يقول: "لا يقطع الأبطح إلا (شدًّا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ولد شیبہ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا ومروہ میں سعی کرتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ مقام الابطح کو جلدی اور تیزی کے ساتھ ہی قطع کیا جائے گا، (وہاں سے تیز گزرا جائے گا) ۔
١٦٢٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن ابن عمر أنه كان يقول: رب اغفر وارحم وأنت الأعز الأكرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ دعا پڑھتے تھے کہ : رب اغفر وارحم، انک أنت الأعز الأکرم۔
١٦٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن أبي إسحاق [عن ابن عمر أنه كان يقول: رب اغفر وارحم وأنت الأعز الأكرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہی دعا مانگا کرتے تھے۔
١٦٢٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (عن خالد) (١) عن حجاج عن أبي إسحاق] (٢) عن (حنش) (٣) عن ابن عمر أنه كان يفعله (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح فرماتے تھے۔