١٣٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن النعمان بن مالك قال: تمتعت [فأتيت ابن عباس فقلت له: (إني) (١) تمتعت] (٢)، فقال (ما) (٣) استيسر من الهدي) فقلت: شاة؟ (فقال: شاة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن ملک فرماتے ہیں کہ میں نے حج تمتع کیا تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے حج تمتع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } میں نے عرض کیا بکری ؟ آپ نے فرمایا ہاں بکری۔
١٣٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن النعمان بن قيس عن ابن عمر قال: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [البقرة: ١٩٦]: شاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } (جو ھدی میسر ہو) اس سے مراد بکری ہے۔
١٣٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن سليم الطائفي عن هشام بن (١) عروة عن أبيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے ارشاد { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } سے مراد سستا جانور سے لے کر مہنگا جانور سب شامل ہیں۔
١٣٢١٤ - وعن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر قال (٢): ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ ⦗٤٣٥⦘ الْهَدْيِ﴾: ما بين الرخص إلى الغلا (٣).
١٣٢١٥ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾: شاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ما استیسر من الھدی۔ سے مراد بکری ہے۔
١٣٢١٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم قال: سمعت الزهري وسئل عن ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾، فقال: كان ابن عمر يقول: من الإبل والبقر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے دریافت کیا گیا کہ { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے گائے اور اونٹ مراد ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے بکری مراد ہے۔
١٣٢١٨ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: شاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بکری ہے۔
١٣٢١٩ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل عن وبرة عن ابن عمر قال: إذا قرن الرجل الحج والعمرة فعليه بدنة فقيل له: إن ابن مسعود كان يقول: شاة] (١)، فقال ابن عمر: الصيام أحب إليّ من شاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ک جب کوئی شخص حج اور عمرہ میں قران کرے تو اس پر اونٹ ہے، ان سے کہا گیا کہ حضرت ابن مسعود تو فرماتے تھے بکری ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : روزے میرے نزدیک بکری سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔
١٣٢٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) عبدة عن يحيى بن سعيد عن القاسم أن ⦗٤٣٦⦘ عائشة وابن عمر (كانا) (٢) يقولان: الهدي من (الإبل والبقر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ھدی اونٹ اور گائے میں سے ہو۔
١٣٢٢١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي عن محمد بن (عبيد) (١) بن (أوس) (٢) عن ابن الزبير قال: ذات (جوف) (٣) من إبل أو بقر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں ھدی بڑے پیٹ والے گائے یا اونٹ میں سے ہو۔
١٣٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن ابن طاوس عن أبيه قال: قد يستيسر الجزور والبقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس کے والد فرماتے ہیں ھدی کے لیے تمہیں اونٹنی اور گائے میسر کر دئیے گئے ہیں۔
١٣٢٢٣ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن دلهم بن صالح عن أبي جعفر قال: شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں اس سے مراد بکری ہے۔
١٣٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن (البختري) (١) بن (المختار) (٢) قال: سمعت عطاء يقول: شاة] (٣).
١٣٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي (قال: سمعت الشعبي) (١) يقول: يجزئ شاة (في التمتع) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں حج تمتع میں بکری کافی ہوجائے گی۔
١٣٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ شاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } سے مراد بکری ہے۔
١٣٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن وبرة (بن) (١) عبد الرحمن (قال) (٢): أتيت ابن عمر فقلت: إن عليّ (هديًا) (٣) (فما) (٤) تأمرني؟ (قال) (٥): (بدنة) (٦) من (البقر) (٧) وإلا (فإن صوم) (٨) ثلاثة أيام وسبعة إذا رجعت إلى (أهلك) (٩) أحب إلي من شاة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا : میرے ذمہ ھدی ہے آپ مجھے کون سے جانور کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : گائے میں سے ہو یا پھر تین یا سات دن کے روزے جب تم اپنے اھل کی طرف واپس لوٹ جاؤ اور یہ روزے مجھے بکری سے زیادہ پسند ہیں۔
١٣٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص (عن جعفر) (١) عن أبيه عن علي قال: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾: شاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ما استیسر من الھدی۔ سے مراد بکری ہے۔
١٣٢٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد (عن القاسم) (١) عائشة وابن عمر لم يكونا يريان ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾: إلا من الإبل والبقر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } اونٹ یا گائے میں سے ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک { مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ } سے مراد بکری ہے۔