کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک حج تمتع کرنے والے اگر دم میں شرکت کر لیں تو کافی ہو جائے اور جن حضرات نے اس کو ناپسند کیا ہے اس کا بیان
١٣٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يعلى وابن نمير عن عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: كنا نتمتع مع رسول اللَّه ﷺ: (فنذبح) (١) البقرة عن سبعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا اور ہم سات لوگوں نے ایک گائے ذبح کی۔
١٣٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: يجزئ المتمتع (أن يشارك) (١) في دم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمتع کرنے والے اگر ایک ہی دم (قربانی) میں شرکت کرلیں تو ان کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
١٣٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: (تجزئ) (١) الناقة والبقرة عن سبعة متمتعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ یا گائے سات تمتع کرنے والوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
١٣٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء قال: يشترك (المحصورون) (١) والمتمتعون في البدنة عن سبعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محصورین (جو حج پر جانے سے روک دیئے گئے ہوں) اور تمتع کرنے والے سات اشخاص کی طرف سے ایک اونٹ کافی ہوجائے گا۔
١٣٢٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن وعطاء أنهما كانا لا يريان بأسًا بالتمتع أن يدخل في شرك في جزور أو بقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء کے نزدیک تمتع کرنے والوں کے ایک اونٹنی یا گائے میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٣٢٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن القوم (يشتركون) (١) في الهدي، فكرها ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے کئی لوگوں کے ایک ہدی میں شریک ہونے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ دونوں حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔