حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ويُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حضرموت میں زمین عطا فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا، فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ: «أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ وَأَعْطِهٍ إِيَّاهُ» قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ قُلْتُ: لَا تَكُونُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ قَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَكَ أنْتَعِلُ بِهَا قُلْتُ: انْتَعِلْ بِظِلِّ النَّاقَةِ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، ثُمَّ ذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ قَالَ سِمَاكٌ: قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتَهُ بَيْنَ يَدَيَّ
ترجمہ
سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ بن وائل رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک زمین عطا فرمائی اور میرے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا: ”اسے یہ زمین دکھا دو اور اسے دے دو۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو۔“ میں نے کہا: ”تم بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں میں سے نہیں ہو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے اپنا جوتا دے دو، میں اسے پہن لوں۔“ میں نے کہا: ”اونٹنی کے سائے میں چل لو۔“ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو میں ان کے پاس آیا، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا، پھر مجھے یہ واقعہ یاد دلایا۔ سماک کہتے ہیں: انہوں (معاویہ) نے کہا: کاش میں نے اسے اپنے آگے سوار کر لیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ومُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: ثَنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، أَنَّ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، أَخْبَرَنِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُولُوا لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَبَلَةَ أَوِ الْحَبَلَ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انگور کو 'الکرم' مت کہو، بلکہ 'الحبلہ' یا 'الحبل' کہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ويُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ: نَتَدَاوَى بِهَا وَيَجْعَلُ فِي الدَّوَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهَا دَاءٌ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا جب سوید بن طارق نے آپ ﷺ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے منع فرما دیا۔ اس نے کہا: ہم اس سے علاج کرتے ہیں، اسے دوا میں ڈالا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لَنَا كُرُومًا كَثِيرَةً فَهَلَّا نَعْصِرُهَا فَنَبِيعُهَا، ونَسْتَشْفِي بِهَا قَالَ: «لَا هِيَ دَاءٌ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: یزید بن سلمہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس بہت سے انگور کے باغات ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر بیچ لیں اور اس سے شفا حاصل کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ (خود) بیماری ہے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ» ؟ قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»
ترجمہ
…(ایک شخص نے شکایت کی:) اس نے میری اس زمین پر قبضہ جما لیا ہے جو میرے والد کی تھی۔ کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں اس کی قسم لینا ہوگی۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ فاجر آدمی ہے، اسے پروا نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے، یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس سے سوائے اس (قسم) کے اور کچھ نہیں۔“ چنانچہ وہ قسم کھانے کے لیے چلا، جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یاد رکھو، اگر اس نے اپنے مال پر (جھوٹی) قسم کھائی تاکہ وہ ناجائز طریقے سے اسے کھا جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہوئے ہوگا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً وَقَعَ عَلَيْهَا رَجُلٌ فِي سَوَّادِ الصُّبْحِ، وَهِي تَعَمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ يَغْصِبُهَا عَلَى نَفْسِهَا، فَاسْتَعَانَتْ بِرَجُلٍ مَرَّ عَلَيْهَا، وَفَرَّ صَاحِبُهَا، ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَوْمٌ ذُو عُدَّةٍ فَاسْتَعَانَتْ بِهِمْ، فَأَدْرَكُوا الَّذِي اسْتِعَانَتْ بِهِ، وسَبَقَهُمُ الْآخَرُ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا، وَأَخْبَرَهُ الْقَوْمُ أَنَّهُمْ أَدْرَكُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أُعْيِنُهَا عَلَى صَاحِبِهَا، فَأَدْرَكُونِي هَؤُلَاءِ فَأَخَذُونِي قَالَتْ: كَذَبَ، هُوَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ: لَا تَرْجُمُوهُ، وَلَأَنَا الَّذِي فَعَلْتُ بِهَا الْفِعْلَ، فَاعْتَرَفَ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، وَالَّذِي أَعَانَهَا، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ» وَقَالَ لِلَّذِي أَعَانَها قَوْلًا حَسَنًا فَقَالَ عُمَرُ: ارْجُمِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّهُ قَدْ تَابَ إِلَى اللهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ يَثْرِبَ لَقُبِلَ مِنْهُمْ»
ترجمہ
…اس نے کہا: میں تو اسے اس کے حملہ آور ساتھی سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔ عورت نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے، یہ وہی ہے جس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اسے رجم مت کرو، یہ کام میں نے کیا ہے۔ چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کے پاس تین افراد جمع ہو گئے: وہ جس نے زیادتی کی، وہ جس نے اس کی مدد کی، اور وہ عورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں معاف کر دیا گیا ہے،“ اور مدد کرنے والے سے بھی اچھی بات فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے زنا کا اعتراف کیا ہے اسے رجم کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اس نے اللہ کے حضور ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یثرب والے (سب) بھی ایسی توبہ کرتے تو ان سے قبول کر لی جاتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ فَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالُوا: هَذَا فَقَالَتْ: نَعَمْ، هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا قَالَ: أَنَا صَاحِبُهَا قَالَ: «ادْنُ مِنِّي فَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ» وَقَالَ لِلرَّجُلِ الْآخَرِ قَوْلًا حَسَنًا، فَقَالُوا لَهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: أَتَرْجُمُهُ؟ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ قُبِلَ مِنْهُمْ»
ترجمہ
…یہی وہ شخص ہے۔ چنانچہ وہ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، جب آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اس کا (اصل) ساتھی جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی، کھڑا ہوا اور کہا: میں اس کا ساتھی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے قریب آ جاؤ، اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے،“ اور دوسرے آدمی سے بھی اچھی بات فرمائی۔ لوگوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی، عرض کیا: کیا آپ اسے رجم کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ والے (سب) بھی ایسی توبہ کرتے تو ان سے قبول کر لی جاتی۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا؟ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّانِيَةَ أَوِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ»
ترجمہ
…(ایک شخص نے عرض کیا:) بتائیے اگر ہم پر ایسے حکمران آ جائیں جو ہم سے اپنا حق تو مانگیں لیکن ہمیں ہمارا حق نہ دیں، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر اس نے دوبارہ پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر منہ پھیر لیا، پھر اس نے دوسری یا تیسری بار پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ ان پر وہی (بوجھ) ہے جو ان پر لادا گیا، اور تم پر وہی ہے جو تم پر لادا گیا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، وشَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا قَوْمٌ يَأْخُذُونَا بِالْحَقِّ وَيَمْنَعُونَا حَقَّ اللهِ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ عَادَ الثَّانِيَةَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْهِ مَا حَمَلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ، وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا»
ترجمہ
…(ایک شخص نے عرض کیا:) وہ ہم سے حق تو لیتے ہیں لیکن ہمیں اللہ کا حق نہیں دیتے؟ نبی کریم ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر اس نے دوبارہ پوچھا تو بھی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس پر وہی (بوجھ) ہے جو اس پر لادا گیا، اور تم پر وہی ہے جو تم پر لادا گیا، اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے، لہٰذا اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَتَلَ أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: ضَرَبْتُ رَأْسَهُ بِالْفَأْسِ، وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ قَالَ: «هَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَّتَهُ» قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «خُذْهُ» فَخَرَجَ بِهِ لِيَقْتُلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلَهُ كَانَ مِثْلَهُ» فَرَجَعَ بِهِ حِينَ سَمِعَ قَوْلَهُ فَقَالَ: هُوَ هَذَا، فَأَمُرْ بِهِ مَا شِئْتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسِلْهُ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: میں نے کدال سے اس کے سر پر وار کیا، میرا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے (قاتل سے) فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے کہ اس کی دیت ادا کرو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے (مقتول کے بھائی سے) فرمایا: ”اسے لے جاؤ۔“ وہ اسے لے کر قتل کرنے کے لیے نکلا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ جب اس نے یہ بات سنی تو اسے واپس لے آیا اور کہا: یہ ہے وہ آدمی، اب اس کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ: أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ يَقُودُ رَجُلًا بِنِسْعَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَتَلَ أَخِي قَالَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: كُنَّا نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ: «عِنْدَكَ مَالٌ تَدِيهِ عَنْ نَفْسِكَ» قَالَ: لَا، وَاللهِ مَا لِي مَالٌ إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي قَالَ: «أَتَرَى قَوْمَكَ يَدُونَكَ؟» قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ: «دُونَكَ صَاحِبَكَ» فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ» فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلَهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ: «أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمَ صَاحِبِكَ» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَإِنَّهُ كَذَلِكَ» فَرَمَى نِسْعَتَهُ وَقَالَ: «اذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ اچانک ایک آدمی داخل ہوا جو ایک شخص کو رسی سے باندھ کر لا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہم ایک درخت سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، تو میں نے کدال سے اس کے سر پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے کہ اپنی طرف سے دیت ادا کر سکو؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میرے پاس اپنی کدال اور چادر کے سوا کوئی مال نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں لگتا ہے تمہاری قوم تمہاری طرف سے دیت ادا کر دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کہیں حقیر تر ہوں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی رسی اس (بھائی) کی طرف پھینکی اور فرمایا: ”اپنے ساتھی کو لے جاؤ۔“ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو کسی نے آ کر اسے کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اسے صرف آپ کے حکم سے پکڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ اپنا گناہ اور تمہارے ساتھی کا گناہ دونوں لے کر لوٹے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس ایسا ہی ہے۔“ چنانچہ اس نے اپنی رسی پھینک دی اور کہا: ”جہاں چاہو چلے جاؤ۔“