❮
❯
حدیث نمبر: 18237
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ» ؟ قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»
ترجمہ

سماک بن حرب رحمہ اللہ علقمہ بن وائل بن حجر کے واسطے سے اپنے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: حضرموت کا ایک آدمی اور کندہ کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میری اس زمین پر قبضہ جما لیا ہے جو میرے والد کی تھی۔ کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں اس کی قسم لینا ہوگی۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ فاجر آدمی ہے، اسے پروا نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے، یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں۔“ چنانچہ وہ قسم کھانے کے لیے چلا، جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یاد رکھو، اگر اس نے اس کے مال پر قسم کھائی تاکہ وہ ناجائز طریقے سے اسے کھا جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہوئے ہوگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18237
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 14، حدیث 17