المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل باب: سماک بن حرب کی علقمہ بن وائل سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ: أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ يَقُودُ رَجُلًا بِنِسْعَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَتَلَ أَخِي قَالَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: كُنَّا نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ: «عِنْدَكَ مَالٌ تَدِيهِ عَنْ نَفْسِكَ» قَالَ: لَا، وَاللهِ مَا لِي مَالٌ إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي قَالَ: «أَتَرَى قَوْمَكَ يَدُونَكَ؟» قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ: «دُونَكَ صَاحِبَكَ» فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ» فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلَهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ: «أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمَ صَاحِبِكَ» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَإِنَّهُ كَذَلِكَ» فَرَمَى نِسْعَتَهُ وَقَالَ: «اذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ»سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ اچانک ایک آدمی داخل ہوا جو ایک شخص کو رسی سے باندھ کر لا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہم ایک درخت سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، تو میں نے کدال سے اس کے سر پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے کہ اپنی طرف سے دیت ادا کر سکو؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میرے پاس اپنی کدال اور چادر کے سوا کوئی مال نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں لگتا ہے تمہاری قوم تمہاری طرف سے دیت ادا کر دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کہیں حقیر تر ہوں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی رسی اس (بھائی) کی طرف پھینکی اور فرمایا: ”اپنے ساتھی کو لے جاؤ۔“ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو کسی نے آ کر اسے کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اسے صرف آپ کے حکم سے پکڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ اپنا گناہ اور تمہارے ساتھی کا گناہ دونوں لے کر لوٹے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس ایسا ہی ہے۔“ چنانچہ اس نے اپنی رسی پھینک دی اور کہا: ”جہاں چاہو چلے جاؤ۔“