حدیث نمبر: 18243
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ: أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ يَقُودُ رَجُلًا بِنِسْعَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا قَتَلَ أَخِي قَالَ: «أَقَتَلْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟» قَالَ: كُنَّا نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ: «عِنْدَكَ مَالٌ تَدِيهِ عَنْ نَفْسِكَ» قَالَ: لَا، وَاللهِ مَا لِي مَالٌ إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي قَالَ: «أَتَرَى قَوْمَكَ يَدُونَكَ؟» قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ: «دُونَكَ صَاحِبَكَ» فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ» فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلَهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ: «أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمَ صَاحِبِكَ» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَإِنَّهُ كَذَلِكَ» فَرَمَى نِسْعَتَهُ وَقَالَ: «اذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ»
ترجمہ

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ اچانک ایک آدمی داخل ہوا جو ایک شخص کو رسی سے باندھ کر لا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہم ایک درخت سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، تو میں نے کدال سے اس کے سر پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے کہ اپنی طرف سے دیت ادا کر سکو؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میرے پاس اپنی کدال اور چادر کے سوا کوئی مال نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں لگتا ہے تمہاری قوم تمہاری طرف سے دیت ادا کر دے گی؟“ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کہیں حقیر تر ہوں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی رسی اس (بھائی) کی طرف پھینکی اور فرمایا: ”اپنے ساتھی کو لے جاؤ۔“ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو کسی نے آ کر اسے کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اسے صرف آپ کے حکم سے پکڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ اپنا گناہ اور تمہارے ساتھی کا گناہ دونوں لے کر لوٹے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس ایسا ہی ہے۔“ چنانچہ اس نے اپنی رسی پھینک دی اور کہا: ”جہاں چاہو چلے جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18243
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 17، حدیث 23