المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل باب: سماک بن حرب کی علقمہ بن وائل سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً وَقَعَ عَلَيْهَا رَجُلٌ فِي سَوَّادِ الصُّبْحِ، وَهِي تَعَمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ يَغْصِبُهَا عَلَى نَفْسِهَا، فَاسْتَعَانَتْ بِرَجُلٍ مَرَّ عَلَيْهَا، وَفَرَّ صَاحِبُهَا، ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَوْمٌ ذُو عُدَّةٍ فَاسْتَعَانَتْ بِهِمْ، فَأَدْرَكُوا الَّذِي اسْتِعَانَتْ بِهِ، وسَبَقَهُمُ الْآخَرُ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا، وَأَخْبَرَهُ الْقَوْمُ أَنَّهُمْ أَدْرَكُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أُعْيِنُهَا عَلَى صَاحِبِهَا، فَأَدْرَكُونِي هَؤُلَاءِ فَأَخَذُونِي قَالَتْ: كَذَبَ، هُوَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ: لَا تَرْجُمُوهُ، وَلَأَنَا الَّذِي فَعَلْتُ بِهَا الْفِعْلَ، فَاعْتَرَفَ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، وَالَّذِي أَعَانَهَا، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ» وَقَالَ لِلَّذِي أَعَانَها قَوْلًا حَسَنًا فَقَالَ عُمَرُ: ارْجُمِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّهُ قَدْ تَابَ إِلَى اللهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ يَثْرِبَ لَقُبِلَ مِنْهُمْ»…اس نے کہا: میں تو اسے اس کے حملہ آور ساتھی سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔ عورت نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے، یہ وہی ہے جس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اسے رجم مت کرو، یہ کام میں نے کیا ہے۔ چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کے پاس تین افراد جمع ہو گئے: وہ جس نے زیادتی کی، وہ جس نے اس کی مدد کی، اور وہ عورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں معاف کر دیا گیا ہے،“ اور مدد کرنے والے سے بھی اچھی بات فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے زنا کا اعتراف کیا ہے اسے رجم کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اس نے اللہ کے حضور ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یثرب والے (سب) بھی ایسی توبہ کرتے تو ان سے قبول کر لی جاتی۔“