❮
❯
حدیث نمبر: 18238
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً وَقَعَ عَلَيْهَا رَجُلٌ فِي سَوَّادِ الصُّبْحِ، وَهِي تَعَمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ يَغْصِبُهَا عَلَى نَفْسِهَا، فَاسْتَعَانَتْ بِرَجُلٍ مَرَّ عَلَيْهَا، وَفَرَّ صَاحِبُهَا، ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَوْمٌ ذُو عُدَّةٍ فَاسْتَعَانَتْ بِهِمْ، فَأَدْرَكُوا الَّذِي اسْتِعَانَتْ بِهِ، وسَبَقَهُمُ الْآخَرُ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا، وَأَخْبَرَهُ الْقَوْمُ أَنَّهُمْ أَدْرَكُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أُعْيِنُهَا عَلَى صَاحِبِهَا، فَأَدْرَكُونِي هَؤُلَاءِ فَأَخَذُونِي قَالَتْ: كَذَبَ، هُوَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ: لَا تَرْجُمُوهُ، وَلَأَنَا الَّذِي فَعَلْتُ بِهَا الْفِعْلَ، فَاعْتَرَفَ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، وَالَّذِي أَعَانَهَا، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ» وَقَالَ لِلَّذِي أَعَانَها قَوْلًا حَسَنًا فَقَالَ عُمَرُ: ارْجُمِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّهُ قَدْ تَابَ إِلَى اللهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ يَثْرِبَ لَقُبِلَ مِنْهُمْ»
ترجمہ

سماک بن حرب رحمہ اللہ علقمہ بن وائل بن حجر کے واسطے سے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت پر صبح کے اندھیرے میں ایک آدمی نے حملہ کیا، جبکہ وہ مسجد کا رخ کر رہی تھی، اس نے زبردستی اس کی عصمت دری کی، تو اس نے ایک گزرنے والے آدمی سے مدد مانگی، اور اس کا ساتھی بھاگ گیا، پھر اس کے پاس سے ہتھیار بند لوگوں کی ایک جماعت گزری تو اس نے ان سے مدد مانگی، انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس سے اس نے مدد مانگی تھی، جبکہ دوسرا حملہ آور ان سے آگے نکل گیا۔ وہ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، تو عورت نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس نے اس پر حملہ کیا تھا، اور لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے اسے دوڑتے ہوئے پکڑا ہے۔ اس نے کہا: میں تو اسے اس کے حملہ آور ساتھی سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔ عورت نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے، یہ وہی ہے جس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اسے رجم مت کرو، یہ کام میں نے کیا ہے۔ چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کے پاس تین افراد جمع ہو گئے: وہ جس نے زیادتی کی، وہ جس نے اس کی مدد کی، اور وہ عورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں معاف کر دیا گیا ہے،“ اور مدد کرنے والے سے بھی اچھی بات فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے زنا کا اعتراف کیا ہے اسے رجم کر دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اس نے اللہ کے حضور ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یثرب والے سب بھی ایسی توبہ کرتے تو ان سے قبول کر لی جاتی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18238
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 15، حدیث 18