حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ حِينَ خَرَجُوا إِلَيْهِ عَنْ قَتَلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو، جو ابن ابی الحقیق کی طرف اسے قتل کرنے کے لیے نکلے، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَقْتُلَ صَبِيًّا وَلَا امْرَأَةً»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ عہد دیا تھا کہ ہم کسی بچے اور کسی عورت کو قتل نہ کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَوْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَقْتُلَ صَبِيًّا وَلَا امْرَأَةً» .
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ عہد دیا تھا کہ ہم کسی بچے اور کسی عورت کو قتل نہ کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَوْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ كَعْبٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى عَنْ قَتَلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِنَّ اللهَ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشَّعْرِ مَا أَنْزَلَ، قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَ فِيهِمْ نَضْحَ النَّبْلِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: اللہ نے شعر کے بارے میں جو نازل کیا سو نازل کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، گویا تم ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہے ہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا تَرَى فِي الشَّعْرَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ شعر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، گویا تم انہیں تیروں سے چھلنی کر رہے ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ بَشِيرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، إِنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ، فِيمَا يَقُولُ لَهُمُ مِنَ الشَّعْرِ»
ترجمہ
بشیر بن عبدالرحمن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، گویا تم انہیں تیروں سے چھلنی کر رہے ہو“ - اس شعر کے بارے میں جو وہ شاعر ان کے خلاف کہتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ، كَانَ شَاعِرًا وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِمْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فِي شَعْرِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَخْلَاطٌ، مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ يَجْمَعُهُمْ دَعْوَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِمُ الْمُشْرِكُونَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَمِنْهُمُ الْيَهُودُ، وَمِنْهُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ، وَهُمْ حُلَفَاءُ الْحَيَّيْنِ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ اسْتِصْلَاحَهُمْ وَمُوَادَعَتَهُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَبُوهُ مُشْرِكًا، وَالرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَخُوهُ مُشْرِكًا، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ أَشَدَّ الْأَذَى، وَأَمَرَ اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ بِالصَّبِرِ عَلَى ذَلِكَ وَالْعَفْوِ عَنْهُمْ، فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلَكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا} [آل عمران: ١٨٦] ، إِلَى قَوْلِهِ {مِنْ عَزَمِ الْأُمُورِ} [آل عمران: ١٨٦] ، وَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا} [البقرة: ١٠٩] ، إِلَى قَوْلِهِ {حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ} [البقرة: ١٠٩] ، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ ثُمَّ الْحَارِثِيَّ، وَأَبَا عِيسَى بْنَ حَبْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَالْحَارِثَ ابْنَ أَخِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي خَمْسَةِ رَهْطٍ فَأَتَوْهُ عَشِيَّةً فِي مَجْلِسِهِ بِالْعَوَالِي، فَلَمَّا رَآهُمْ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْكَرَ شَأْنَهُمْ، وَكَانَ يَذْعَرُ مِنْهُمْ، وَقَالَ لَهُمْ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟، قَالُوا: جَاءَ بِنَا حَاجَةٌ إِلَيْكَ، قَالَ: فَلْيَدْنُ إِلَيَّ بَعْضُكُمْ لِيُحَدِّثَنِي بِهَا، فَدَنَا إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ: قَدْ جِئْنَاكَ لِنَبِيعَكَ أَدْرَاعًا لَنَا لِنَسْتَنْفِقَ أَثْمَانَهَا، فَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ جُهِدْتُمْ مُنْذُ نَزَلَ بِكُمْ هَذَا الرَّجُلُ، فَوَاعَدَهُمْ أَنْ يَأْتُوهُ عِشَاءً حِينَ يَهْدِي عَنْهُ النَّاسَ، فَجَاؤُوهُ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَامَ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: مَا طَرَقُوكَ سَاعَتَهُمْ هَذِهِ بِشَيْءٍ مِمَّا تُحِبُّ، قَالَ: بَلَى، إِنَّهُمْ قَدْ حَدَّثُونِي حَدِيثَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَاعْتَنَقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لَا يَسْبِقْكُمْ وَإِنْ قَتَلْتُمُونِي وَإِيَّاهُ جَمِيعًا، فَطَعَنَهُ بَعْضُهُمْ بِالسَّيْفِ فِي خَاصِرَتِهِ، فَلَمَّا قَتَلُوهُ فَزِعْتِ الْيَهُودُ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَغَدَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحُوا، فَقَالُوا: قَدْ طُرِقَ صَاحِبُنَا اللَّيْلَةَ، وَهُوَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا، فَقُتِلَ غِيلَةً، فَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ فِي أَشْعَارِهِ وَيُؤْذِيهِمْ بِهِ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً صَحِيفَةً فِيهَا جَامِعُ أَمَرِ النَّاسِ، فَكَتَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب بن اشرف یہودی ایک شاعر تھا، وہ اپنے اشعار میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور کفارِ قریش کو ان کے خلاف ابھارتا تھا۔ اور جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہاں مختلف لوگ تھے: کچھ مسلمان تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ کی دعوت نے جمع کر رکھا تھا، ان میں مشرکین بھی تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے، ان میں یہودی بھی تھے، اور ان میں ہتھیار بند قلعہ بند لوگ بھی تھے، جو اوس اور خزرج قبیلوں کے حلیف تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ تشریف لاتے ہی چاہا کہ ان سب سے صلح اور معاہدہ کر لیں۔ کوئی شخص مسلمان ہوتا تو اس کا باپ مشرک ہوتا، اور کوئی شخص مسلمان ہوتا تو اس کا بھائی مشرک ہوتا۔ اور مدینہ کے مشرکین اور یہودی، رسول اللہ ﷺ کی آمد کے وقت، نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو سخت تکلیف پہنچاتے تھے، تو اللہ نے اپنے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو اس پر صبر اور انہیں معاف کرنے کا حکم دیا۔ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم ضرور ان لوگوں سے، جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، اور مشرکین سے، بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے“ [سورۃ آلِ عمران: 186] یہاں تک کہ ”یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے“۔ اور انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی: ”اہلِ کتاب میں سے بہت سے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں“ [سورۃ البقرہ: 109] یہاں تک کہ ”یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے“۔ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے باز آنے سے انکار کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ، محمد بن مسلمہ انصاری - پھر حارثی - ابوعیسیٰ بن حبر انصاری، اور حارث (سعد بن معاذ کے بھتیجے) رضی اللہ عنہم کو، پانچ آدمیوں کی جماعت میں، اس کام کے لیے حکم دیا۔ چنانچہ وہ ایک شام اس کے پاس عوالی میں اس کی مجلس میں پہنچے۔ جب کعب بن اشرف نے انہیں دیکھا تو ان کے معاملے سے خوفزدہ ہوا، وہ ان سے ڈر جاتا تھا، تو اس نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا بات یہاں لائی؟ انہوں نے کہا: ہمیں تم سے ایک ضرورت لے آئی ہے۔ اس نے کہا: تم میں سے کوئی میرے قریب آ کر مجھ سے بات کرے۔ تو ان میں سے ایک اس کے قریب گیا اور کہا: ہم تمہارے پاس اپنی زرہیں بیچنے آئے ہیں تاکہ ان کی قیمت سے خرچ چلا سکیں۔ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اگر تم ایسا کرو گے تو ضرور تم پر سختی آئی ہے جب سے یہ شخص تمہارے پاس اترا ہے۔ اس نے ان سے وعدہ کیا کہ رات کو، جب لوگ اس کے پاس سے چلے جائیں، وہ اس کے پاس آئیں۔ چنانچہ وہ اس کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے اسے پکارا، تو وہ ان کے پاس نکلنے کے لیے کھڑا ہوا، اس کی بیوی نے کہا: اس وقت وہ تمہارے پاس کسی پسندیدہ کام سے نہیں آئے۔ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے مجھ سے اپنی بات کہی ہے۔ چنانچہ وہ ان کے پاس نکلا، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے گلے لگا لیا، اور اپنے ساتھیوں سے کہا: تم سے آگے نہ نکل جائے، خواہ تم مجھے اور اسے دونوں کو قتل کر دو۔ تو ان میں سے ایک نے اس کی کوکھ میں تلوار سے وار کیا۔ جب انہوں نے اسے قتل کر دیا تو یہودی، اور ان کے ساتھ جو مشرکین تھے، خوفزدہ ہو گئے، صبح ہوتے ہی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے ساتھی کو رات کے وقت مار دیا گیا ہے، وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار تھا، اسے دھوکے سے قتل کر دیا گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں وہ باتیں یاد دلائیں جو وہ اپنے اشعار میں کہتا اور جن سے انہیں تکلیف دیتا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس بات کی دعوت دی کہ آپ ﷺ اور ان کے اور عام مسلمانوں کے درمیان ایک تحریر لکھی جائے جس میں لوگوں کے معاملات کا جامع بیان ہو، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ تحریر لکھوا دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ، كَانَ شَاعِرًا وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَنْ لِكَعْبٍ؟» ، فَلَمَّا أَبَى أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَأَبَا عِيسَى بْنَ الْحَارِثِ ابْنَ أَخِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي خَمْسَةٍ فَأَتَوْا كَعْبًا. فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب بن اشرف یہودی ایک شاعر تھا، وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور ان کے خلاف لوگوں کو ابھارتا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو کعب کا معاملہ نمٹائے؟“ جب اس نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے باز آنے سے انکار کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ، محمد بن مسلمہ اور ابوعیسیٰ بن حارث (سعد بن معاذ کے بھتیجے) رضی اللہ عنہم کو، پانچ آدمیوں کی جماعت میں، حکم دیا، تو وہ کعب کے پاس گئے - پھر راوی نے آگے وہی واقعہ بیان کیا جیسا اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کی صبح سویرے کام شروع کرنے میں برکت عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ، قَالَ: «ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیٹ کے بچے (جنین) کے ذبح کے بارے میں فرمایا: ”اس کا ذبح، اس کی ماں کے ذبح میں شامل ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: إِنَّ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبْنَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ» إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَدِ انْتَهَوْا، وَإِنَّهُمْ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا مُحْسِنَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آخری خطبہ جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! تم تو تعداد میں بڑھتے جا رہے ہو، اور انصار اپنی زیادہ سے زیادہ حد کو پہنچ چکے ہیں، اور وہ میرا وہ راز دار طبقہ ہیں جس کی طرف میں نے پناہ لی، لہٰذا ان کے نیکوکار کی عزت کرو اور ان کے خطاکار سے درگزر کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا: فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحِدٍ، وَقَالَ: «إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے - جو ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی - روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور احد کے دن شہید ہونے والوں کے لیے استغفار کیا، پھر فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! تم تو بڑھتے جا رہے ہو، جبکہ انصار نہیں بڑھتے، اور انصار میرا وہ راز دار طبقہ ہیں جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں، لہٰذا ان کے نیک لوگوں کی عزت کرو اور ان کے خطاکار سے درگزر کرو۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ نَزَعَ لِأُمَّتِهِ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ
زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتَبَدَّا لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: عَذِيرَكَ مِنْ مُحَارِبٍ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعَتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ "، فَوَثَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَلَبِسَ السِّلَاحَ، وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي غَزْوَتِهَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزْمَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ تُصَلِّ حَتَّى أَتَوْا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ
زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتَبَدَّا لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: عَذِيرَكَ مِنْ مُحَارِبٍ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعَتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ "، فَوَثَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَلَبِسَ السِّلَاحَ، وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي غَزْوَتِهَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزْمَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ تُصَلِّ حَتَّى أَتَوْا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب احزاب کا تعاقب کر کے واپس لوٹے تو ہتھیار اتار کر غسل کیا اور خوشبو لگائی۔
دُحیم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور کہا: کیا آپ نے محاربین سے نمٹنے کا ارادہ ترک کر دیا؟ کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے جبکہ ہم نے ابھی تک نہیں اتارے؟“ تو رسول اللہ ﷺ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے علاقے میں پہنچ کر ہی پڑھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہتھیار پہن لیا، اور لوگ نکل پڑے، مگر وہ بنی قریظہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ عصر کی نماز راستے میں پڑھیں یا نہیں، بعض نے کہا: آپ ﷺ نے سختی سے حکم دیا تھا کہ ہم بنی قریظہ پہنچنے تک عصر نہ پڑھیں، اور ہم تو صرف رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں، لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے راستے میں عصر پڑھ لی، اور دوسرے گروہ نے سورج غروب ہونے کے بعد بنی قریظہ پہنچ کر ہی، ایمان اور ثواب کی نیت سے، عصر پڑھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی سختی نہیں کی۔
دُحیم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور کہا: کیا آپ نے محاربین سے نمٹنے کا ارادہ ترک کر دیا؟ کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے جبکہ ہم نے ابھی تک نہیں اتارے؟“ تو رسول اللہ ﷺ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے علاقے میں پہنچ کر ہی پڑھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہتھیار پہن لیا، اور لوگ نکل پڑے، مگر وہ بنی قریظہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ عصر کی نماز راستے میں پڑھیں یا نہیں، بعض نے کہا: آپ ﷺ نے سختی سے حکم دیا تھا کہ ہم بنی قریظہ پہنچنے تک عصر نہ پڑھیں، اور ہم تو صرف رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں، لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے راستے میں عصر پڑھ لی، اور دوسرے گروہ نے سورج غروب ہونے کے بعد بنی قریظہ پہنچ کر ہی، ایمان اور ثواب کی نیت سے، عصر پڑھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی سختی نہیں کی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ: «لَقَدْ أُوتِيَ أَخُوكُمْ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» . «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ» ة
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، جب آپ ﷺ نے انہیں تلاوت کرتے سنا، فرمایا: ”تمہارے اس بھائی کو داؤد علیہ السلام کے خاندان کی خوش الحانی میں سے ایک حصہ دیا گیا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اس حدیث میں سند میں ”عن ابیہ“ نہیں کہا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اس حدیث میں سند میں ”عن ابیہ“ نہیں کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكٍ فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ فَأَبَى، وَأَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَا نَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ» ، ثُمِّ قَالَ: ابْعَثْ مَنْ شِئْتَ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ، فَإِنِّي لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ. فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
...تبوک میں (نبی کریم ﷺ کے پاس آیا)، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے انکار کر دیا، اور نبی کریم ﷺ کو ہدیہ پیش کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔“ پھر فرمایا: ”جسے چاہو نجد کے لوگوں کی طرف بھیج دو، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”اَعْنَق لِیموت“ کہا جاتا تھا۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی - پھر راوی نے آگے وہی حدیث بیان کی جیسی اوپر (بئرِ معونہ کے واقعے میں) گزری۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلِمَةَ؟» ، قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ، عَلَى أَنَّا نَزِنُهُ بِبُخْلٍ، فَقَالَ: «وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟» ، قَالُوا: فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: جد بن قیس، اگرچہ ہم اسے بخل کے ساتھ تولتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: تو ہمارا سردار کون ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بشر بن براء بن معرور۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ؟» ، قَالُوا: سَيِّدُنَا الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ تُسَوِّدُونَهُ؟» ، قَالُوا: فَإِنَّهُ أَكْثَرُ مِنَّا مَالًا، وَإِنَّا لَنَزِنُهُ بِالْبُخْلِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ، لَيْسَ ذَلِكَ سَيِّدُكُمْ» ، قَالُوا: فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «سَيِّدُكُمْ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمارا سردار جد بن قیس ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے کیوں سردار بناتے ہو؟“ انہوں نے کہا: کیونکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہے، اگرچہ ہم اسے بخل کے ساتھ تولتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ یہ تمہارا سردار نہیں۔“ انہوں نے کہا: تو ہمارا سردار کون ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا سردار بشر بن براء بن معرور ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنَ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے افضل شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مومن جو دو عزت دار نیک لوگوں کے درمیان ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ غَرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن سیدھا سادہ اور عزت دار ہوتا ہے، جبکہ فاجر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟» ، قَالَ رَجُلٌ: أَعَزَّكَ اللهُ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مُثِّلَ بِهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى، وَقَالَ: «أَنَا لِشَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لِفُّوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، قَدِمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا منظر دیکھا؟“ ایک شخص نے کہا: اللہ آپ کو عزت دے، میں نے ان کے قتل کا منظر دیکھا ہے۔ تو وہ چلا اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کر دیا گیا ہے اور ان کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! ان کا مثلہ کیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھنا ناپسند فرمایا، اور شہداء کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”میں ان پر گواہ ہوں، انہیں انہی کے خون میں لپیٹ دو، کیونکہ کوئی بھی زخمی جو اللہ کی راہ میں زخمی ہو، وہ قیامت کے دن اپنے زخم کے ساتھ اس طرح آئے گا کہ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان میں سے جو زیادہ قرآن جانتا ہو اسے آگے کرو اور اسے لحد میں رکھو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ، وَقَدْ أَخَذَتْهُ ذَبْحَةٌ، فَأَمَرَ مَنْ يَبُطُّهُ بِالنَّارِ حَتَّى يُوَجِّهَهُ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی عیادت کی، جبکہ انہیں گلے کی سوزش لاحق تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے آگ سے داغ کر چیرا جائے تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَبِيحَةٍ ذَبَحَتْهَا امْرَأَةٌ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس ذبیحہ کے بارے میں پوچھا جسے ایک عورت نے پتھر سے ذبح کیا تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ أَمْرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قَاتَلَ فَأَبْلَى، فَأَخْبَرُوا بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» ، قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَأَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَحَرَ نَفْسَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ صَدَقَ اللهُ حَدِيثَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا بِلَالُ فَنَادِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» .
ترجمہ
...تو لوگ اس کے معاملے کا انتظار کرنے لگے، یہاں تک کہ غزوہ حنین کے دن اس نے خوب لڑائی کی اور بہادری دکھائی، تو لوگوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص زخمی ہو گیا، تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کی بات سچی کر دکھائی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کرو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوگا، اور بےشک اللہ عزوجل اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی کروا سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْجُوبَارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے واسطے سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔