المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 16156–16221) باب: (احادیث 16156 تا 16221)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟» ، قَالَ رَجُلٌ: أَعَزَّكَ اللهُ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مُثِّلَ بِهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى، وَقَالَ: «أَنَا لِشَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لِفُّوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، قَدِمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ»سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا منظر دیکھا؟“ ایک شخص نے کہا: اللہ آپ کو عزت دے، میں نے ان کے قتل کا منظر دیکھا ہے۔ تو وہ چلا اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کر دیا گیا ہے اور ان کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! ان کا مثلہ کیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھنا ناپسند فرمایا، اور شہداء کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”میں ان پر گواہ ہوں، انہیں انہی کے خون میں لپیٹ دو، کیونکہ کوئی بھی زخمی جو اللہ کی راہ میں زخمی ہو، وہ قیامت کے دن اپنے زخم کے ساتھ اس طرح آئے گا کہ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان میں سے جو زیادہ قرآن جانتا ہو اسے آگے کرو اور اسے لحد میں رکھو۔“