حدیث نمبر: 16210
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ نَزَعَ لِأُمَّتِهِ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ
زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتَبَدَّا لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: عَذِيرَكَ مِنْ مُحَارِبٍ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعَتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ "، فَوَثَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَلَبِسَ السِّلَاحَ، وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي غَزْوَتِهَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزْمَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ تُصَلِّ حَتَّى أَتَوْا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ
ترجمہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب احزاب کا تعاقب کر کے واپس لوٹے تو ہتھیار اتار کر غسل کیا اور خوشبو لگائی۔
دُحیم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور کہا: کیا آپ نے محاربین سے نمٹنے کا ارادہ ترک کر دیا؟ کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے جبکہ ہم نے ابھی تک نہیں اتارے؟“ تو رسول اللہ ﷺ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے علاقے میں پہنچ کر ہی پڑھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہتھیار پہن لیا، اور لوگ نکل پڑے، مگر وہ بنی قریظہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ عصر کی نماز راستے میں پڑھیں یا نہیں، بعض نے کہا: آپ ﷺ نے سختی سے حکم دیا تھا کہ ہم بنی قریظہ پہنچنے تک عصر نہ پڑھیں، اور ہم تو صرف رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں، لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے راستے میں عصر پڑھ لی، اور دوسرے گروہ نے سورج غروب ہونے کے بعد بنی قریظہ پہنچ کر ہی، ایمان اور ثواب کی نیت سے، عصر پڑھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی سختی نہیں کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16210
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 79، حدیث 160