حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدُمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمُّ جَلَسَ فِيهِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سفر سے واپس نہیں آتے تھے مگر دن کے وقت، چاشت میں، اور جب واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے، اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر اس میں بیٹھ جاتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، وَرِشْدِينَ، عَنْ عَقِيلٍ، وَقُرَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَسَبَّحَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ فَيَأْتِيهِ الْمُسْلِمُونَ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے، اس میں دو رکعت نفل پڑھتے، پھر سلام پھیرتے اور اپنی جائے نماز پر بیٹھ جاتے، تو مسلمان آپ ﷺ کے پاس آ کر آپ ﷺ کو سلام کرتے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَنِي عَمِّي، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبًا كَانَ يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فِي فُتْيَاهُمْ وَمَسَائِلِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو مسجد جاتے، اس میں دو رکعت پڑھتے، پھر لوگوں کے لیے ان کے سوالات اور فتوے کے لیے بیٹھ جاتے۔
حَدَّثَنَا وَرَدُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فِي فُتْيَاهُمْ وَمَسَائِلِهِمْ فِيمَا بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے تھے: بےشک رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے، اس میں دو رکعت پڑھتے، پھر جتنی دیر مناسب سمجھتے لوگوں کے لیے ان کے سوالات اور فتوے کے لیے بیٹھتے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بہت کم ایسا ہوتا کہ کسی سفر پر نکلتے مگر جمعرات کے دن۔
حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا فُتِحَتْ مِصْرُ، فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا» ، يَعْنِي أَنَّ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ كَانَتْ مِنْهُمْ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب مصر فتح ہو جائے تو قبطیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرو، کیونکہ ان کا ذمہ اور رشتہ ہے۔“ - یعنی سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ انہی میں سے تھیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَدُحَيْمٌ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا فَتَحْتُمْ مِصْرَ فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مصر فتح کر لو تو قبطیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرو، کیونکہ ان کا ذمہ اور رشتہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا فَتَحْتُمْ مِصْرَ فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مصر فتح کر لو تو قبطیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرو، کیونکہ ان کا ذمہ اور رشتہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو زَائِدَةَ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِنَا فِي بَنِي سَلِمَةَ أَقْصَى الْمَدِينَةِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر بنی سلمہ کے محلے کی طرف جاتے، اور ہم اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتے تھے، جبکہ بنی سلمہ مدینہ کے آخری کنارے پر تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَيُصَلِّي مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز پڑھتے اور بنی سلمہ کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، اور وہ واپسی پر تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَا: ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى أَهَالِيهِمْ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ حِينَ يُرْمَى بِهَا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر لوگ اپنے گھروں کو واپس جاتے جبکہ وہ تیر چلائے جانے کے وقت ان کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ? عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ: «رِجَالًا مِنْ بَنِي سَلِمَةَ كَانُوا يَشْهَدُونَ الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ» ، «وَلَمْ يَقُلْ مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی سلمہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز میں حاضر ہوتے، پھر اپنے گھروں کو واپس جاتے جبکہ وہ تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتے تھے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معمر اور ابن جریج نے اس حدیث میں ”ابن کعب عن ابیہ“ نہیں کہا، بلکہ صرف ابن کعب سے روایت کی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معمر اور ابن جریج نے اس حدیث میں ”ابن کعب عن ابیہ“ نہیں کہا، بلکہ صرف ابن کعب سے روایت کی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ: «أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَيَرْجِعُونَ إِلَى بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ حِينَ يُرْمَى بِهَا» . هَكَذَا رَوَاهُ يُونُسُ ? عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ? عَنِ ابْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنے گھروں کو واپس جاتے اور بنی سلمہ کی طرف لوٹتے، جبکہ وہ تیر چلائے جانے کے وقت ان کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتے تھے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن کعب سے اسی طرح روایت کی ہے: مجھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بتایا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن کعب سے اسی طرح روایت کی ہے: مجھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بتایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ لِكَعْبٍ حِينَ حَضَرَ: اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ، تَعْنِي مُبَشِّرًا، فَقَالَ كَعْبٌ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: «إِنَّ» نَسَمَةَ الْمُؤْمِنِ فِي طَيْرٍ تُعْلَّقُ فِي شَجَرِِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَتْ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ "
ترجمہ
...یعنی مبشر اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، تو کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے، اے ام مبشر! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات نہیں سنی؟ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں ہوتی ہے جو جنت کے درختوں میں لٹکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن اس کے جسم میں واپس لوٹا دے۔“ تو اس نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتی ہوں۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ مُعَلَّقٍ فِي الْجَنَّةِ حَتَّى يَرُدَّهَا اللهُ إِلَى أَجْسَادِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کی روحیں پرندوں کی شکل میں جنت میں لٹکی رہتی ہیں، یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن ان کے جسموں میں واپس لوٹا دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی روح تو ایک پرندہ ہے جو جنت کے درختوں میں لٹکا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس دن جب اسے اٹھائے گا اس کے جسم میں واپس لوٹا دے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ ابْنِي فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ» ، قَالَ: بَلَى، قَالَتْ: فَهُوَ كَذَلِكَ
ترجمہ
کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے اے ام بشر! ہم اس سے زیادہ مصروف ہیں۔ تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”مومنوں کی روحیں پرندوں کے پیٹ میں سما کر جنت کے درختوں سے لٹکی رہتی ہیں“؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: تو یہی بات ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ مُبَشِّرٍ، فَقَالَتْ: اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «رُوحُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، قَالَتْ: بَلَى، وَلَكِنْ وَهِلْتُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ام مبشر ان کے پاس آئیں اور کہا: میرے بیٹے مبشر کو میری طرف سے سلام پہنچا دینا۔ انہوں نے اس سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”مومن کی روح ایک پرندہ ہے جو جنت کے درخت میں لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے بھول ہو گئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُمَرُ، ثنا أبي ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ طَائِرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللهُ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن جب مرتا ہے تو اس کی روح ایک پرندہ بن جاتی ہے جو جنت کے درخت میں لٹکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن اس کے جسم میں واپس لوٹا دے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ هَلَكَ، فَقَالَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ: أَقْرِئِ ابْنِي مُبَشِّرًا مِنِّي السَّلَامَ، فَقَالَ كَعْبٌ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خَضِرٍ تَعْلُقُ حَيْثُ شَاءَتْ» ، قَالَتْ: فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللهَ. قَالَ: «هَكَذَا سَمِعْتُهُ»
ترجمہ
تو ام مبشر نے کہا: میرے بیٹے مبشر کو میری طرف سے سلام پہنچانا۔ تو کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا تھا، رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا تھا: ”شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں ہوتی ہیں جو جہاں چاہیں لٹک جاتی ہیں۔“ اس نے کہا: تو میں اللہ سے استغفار کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا: میں نے یہی سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا فِي أُوقِيَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «هَكَذَا اتَّضَعَ عَنِ الشَّطْرِ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «أَدِّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّهِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ ایک شخص کو دو اوقیہ چاندی کے قرض کے سلسلے میں پکڑے ہوئے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”کیا اس نے آدھا قرض معاف کر دیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ تو آپ ﷺ نے کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے اس کا باقی حق ادا کر دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدَ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، حَتَّى خَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَتَكَشَّفَتْ سُحُفُ حُجْرَتِهِ، حَتَّى رَأَى كَعْبًا، فَقَالَ: «يَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ» ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكِ هَذَا» ، قَالَ: قَدْ وَضَعَتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «قُمْ فَاقْضِهِ»
ترجمہ
...یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے، جو اپنے گھر میں تھے، ان دونوں کی آوازیں سن لیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان دونوں کی طرف نکل آئے، آپ ﷺ کے حجرے کا پردہ ہٹا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا، تو فرمایا: ”اے کعب بن مالک!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اس قرض میں سے آدھا چھوڑ دو۔“ انہوں نے عرض کیا: میں نے چھوڑ دیا، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور اپنا قرض ادا کرو۔“
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدَ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سُحُفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: «يَا كَعْبُ،» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، فَقَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ فَاقْضِهِ» .
ترجمہ
(دونوں کی) آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے، جو اپنے گھر میں تھے، انہیں سن لیا، تو رسول اللہ ﷺ ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا، پھر کعب بن مالک کو آواز دی: ”اے کعب!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض میں سے آدھا چھوڑ دو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے ایسا کر دیا، یا رسول اللہ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور اپنا قرض ادا کرو۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدَ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنا قرض مانگا جو اس کے ذمے تھا، تو دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں سن لیا - پھر راوی نے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا جیسا اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ (عارضی نکاح) سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ کے نکاح سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَائِدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» إِذَا سُرَّ رَأَيْتَ وَجْهَهُ كَأَنَّهُ شُقَّةُ الْقَمَرِ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب خوش ہوتے تو ان کا چہرہ ایسا لگتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالَكٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ بِالْأَمْرِ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ حَتَّى يُعْرَفُ ذَلِكَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب کسی بات سے خوش ہوتے تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا، ایسے جیسے چاند کا ٹکڑا ہو، یہاں تک کہ اسی سے خوشی کا پتہ چل جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ» إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا، ایسے جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ بَعْدَ أَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَّهُ الْأَمْرُ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّهُ دَارَةُ قَمَرٍ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب کسی بات سے خوش ہوتے تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا، ایسے جیسے چاند کا ہالہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهَا: «مَا هَذِهِ؟» ، قَالَتْ: هَدِيَّةٌ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «أَمْسِكُوا» ، ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: «هَلْ سَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟» ، قَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟، قَالَ: «هَذَاِ الْعَظْمُ» لِسَاقِهَا أَوْ هُوَ فِي يَدَهِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «لِمَ؟» ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْكَاهِلِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجِمُوا، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر پیش کی، تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: یہ ہدیہ ہے - اور وہ ڈر گئی کہ صدقہ نہ کہہ دے - تو آپ ﷺ نے کھایا اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے بھی کھایا، پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”رک جاؤ۔“ پھر اس عورت سے فرمایا: ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟“ اس نے کہا: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ہڈی نے“ - اس کی پنڈلی کی ہڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، یا وہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھی - اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر تم جھوٹے نبی ہو تو لوگ تم سے آرام پا جائیں گے، اور اگر تم سچے نبی ہو تو یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تو نبی کریم ﷺ نے کاہل (کندھے کے پاس) پچھنے لگوائے، اور اپنے ساتھیوں کو بھی پچھنے لگوانے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے پچھنے لگوائے، مگر ان میں سے کچھ لوگ فوت ہو گئے۔ زہری کہتے ہیں: ”اس عورت نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوگوں نے ذکر کیا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، وَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
ترجمہ
(ملاعب الاسنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر آیا، اور نبی کریم ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
قَالَ: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ، فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: الْمُعْنِقُ، أَعْنَقَ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَأَطَاعُوهُ فَاتَّبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ
قَالَ: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ، فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: الْمُعْنِقُ، أَعْنَقَ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَأَطَاعُوهُ فَاتَّبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ملاعب الاسنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر آیا، تو آپ ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
اس نے کہا: آپ نجد کے لوگوں کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”المُعْنِق“ (تیز چلنے والا) کہا جاتا تھا کیونکہ وہ موت کے وقت تیزی سے آگے بڑھے تھے۔ تو عامر بن طفیل نے ان کے خلاف بنی عامر سے مدد مانگی، مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور ملاعب الاسنہ کی دی ہوئی پناہ توڑنے سے بھی انکار کر دیا۔ تو اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد مانگی، تو انہوں نے اس کی بات مان لی، چنانچہ وہ تقریباً سو تیر انداز آدمیوں کے ساتھ ان کے پیچھے چلا، اور انہیں بئرِ معونہ پر جا لیا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو قتل کر دیا۔
اس نے کہا: آپ نجد کے لوگوں کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”المُعْنِق“ (تیز چلنے والا) کہا جاتا تھا کیونکہ وہ موت کے وقت تیزی سے آگے بڑھے تھے۔ تو عامر بن طفیل نے ان کے خلاف بنی عامر سے مدد مانگی، مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور ملاعب الاسنہ کی دی ہوئی پناہ توڑنے سے بھی انکار کر دیا۔ تو اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد مانگی، تو انہوں نے اس کی بات مان لی، چنانچہ وہ تقریباً سو تیر انداز آدمیوں کے ساتھ ان کے پیچھے چلا، اور انہیں بئرِ معونہ پر جا لیا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو قتل کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَغَيْرِهِ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ، الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ: ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ رُسُلِكَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمْ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعِدِيُّ، يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَاسْتَنْفَرَ لَهُمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ، يَقُولُ عُرْوَةُ: «وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ» ، فَقَالَ حَسَّانٌ: يُحَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ:
[البحر الوافر]
بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ
تَهَكُّمِ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ... لِيَخْفِرُهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ
فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ ? «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ»
فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ: ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ رُسُلِكَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمْ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعِدِيُّ، يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَاسْتَنْفَرَ لَهُمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ، يَقُولُ عُرْوَةُ: «وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ» ، فَقَالَ حَسَّانٌ: يُحَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ:
[البحر الوافر]
بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ
تَهَكُّمِ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ... لِيَخْفِرُهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ
فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ ? «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ»
ترجمہ
وہ (عامر بن مالک ملاعب الاسنہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جبکہ وہ مشرک تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ! اپنے قاصدوں میں سے جسے چاہیں نجد کی طرف بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”اَعْنَق لِیموت“ کہا جاتا تھا، وہ نجد کے لوگوں میں (اسلام کی) نگرانی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی، اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد طلب کی، وہ اس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو بئرِ معونہ پر قتل کر دیا۔ عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ کر بعد میں چھوڑ دیا۔ جب وہ ان سب میں سے واحد بچ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے - اور ان میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، مجھے عروہ نے بتایا کہ وہ اسی دن قتل ہوئے تھے مگر جب انہیں دفن کرنے کے لیے تلاش کیا تو ان کی لاش نہ ملی، عروہ کہتے ہیں: لوگوں کا خیال تھا کہ فرشتوں نے ہی انہیں دفن کر دیا تھا - تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل کے خلاف جنگ پر ابھارتے ہوئے یہ اشعار کہے:
[بحرِ وافر میں]
”اے ام البنین کے بیٹو! کیا تمہیں یہ بات ہلا نہیں دیتی، جبکہ تم اہلِ نجد کے سرداروں میں سے ہو؟ عامر کا ابوبراء کی دی ہوئی پناہ کو حقیر جاننا، تاکہ اس کا عہد توڑے - یہ خطا نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی بات تھی۔“
چنانچہ ربیعہ بن عامر بن مالک نے، عامر بن طفیل کو اس کی توڑی ہوئی پناہ کے بدلے، عامر بن مالک بن طفیل کی ران میں ایسا نیزہ مارا کہ اسے چیر ڈالا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اپنی روایت میں والد کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔
تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ! اپنے قاصدوں میں سے جسے چاہیں نجد کی طرف بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”اَعْنَق لِیموت“ کہا جاتا تھا، وہ نجد کے لوگوں میں (اسلام کی) نگرانی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی، اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد طلب کی، وہ اس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو بئرِ معونہ پر قتل کر دیا۔ عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ کر بعد میں چھوڑ دیا۔ جب وہ ان سب میں سے واحد بچ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے - اور ان میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، مجھے عروہ نے بتایا کہ وہ اسی دن قتل ہوئے تھے مگر جب انہیں دفن کرنے کے لیے تلاش کیا تو ان کی لاش نہ ملی، عروہ کہتے ہیں: لوگوں کا خیال تھا کہ فرشتوں نے ہی انہیں دفن کر دیا تھا - تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل کے خلاف جنگ پر ابھارتے ہوئے یہ اشعار کہے:
[بحرِ وافر میں]
”اے ام البنین کے بیٹو! کیا تمہیں یہ بات ہلا نہیں دیتی، جبکہ تم اہلِ نجد کے سرداروں میں سے ہو؟ عامر کا ابوبراء کی دی ہوئی پناہ کو حقیر جاننا، تاکہ اس کا عہد توڑے - یہ خطا نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی بات تھی۔“
چنانچہ ربیعہ بن عامر بن مالک نے، عامر بن طفیل کو اس کی توڑی ہوئی پناہ کے بدلے، عامر بن مالک بن طفیل کی ران میں ایسا نیزہ مارا کہ اسے چیر ڈالا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اپنی روایت میں والد کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ أَمَرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ أَوْ أَجْزَمُ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر اہم کام جس کا آغاز اللہ کی حمد سے نہ کیا جائے وہ ادھورا اور بےبرکت رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حُلَّةً حَمْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا، تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے، اور میرا رب عزوجل مجھے ایک سرخ جوڑا پہنائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو میں وہ بات کہوں گا جو اللہ چاہے گا کہ میں کہوں، اور یہی مقامِ محمود ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي نَزَلَتُ فِي مَحِلَّةِ بَنِي فُلَانٍ، وَإِنَّ أَشَدَّهُمْ لِي أَذًى أَقْدَمُهُمْ لِي جِوَارًا، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا يَأْتُونَ الْمَسْجِدَ فَيَقُومُونَ عَلَى بَابِهِ فَيَصِيحُونَ: أَلَا إِنَّ أَرْبَعِينَ دَارًا جَارٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ خَافَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ "
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں قبیلے کے محلے میں رہائش پذیر ہوا ہوں، اور جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے وہی مجھ سے پرانا پڑوسی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا کہ وہ مسجد آئیں اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر پکاریں: ”سن لو! چالیس گھر تک پڑوسی ہوتے ہیں، اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے خوفزدہ رہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّهُ كَانَ لَهُ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَتَرَدَّتْ شَاةٌ مِنْهَا فَنَزَلَتِ الْأَمَّةَ فَذَبَحْتُهَا، فَسَأَلَ كَعْبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی کچھ بکریاں سَلع پہاڑ پر چرا کرتی تھیں، تو ان میں سے ایک بکری گر پڑی، تو ایک باندی نے اتر کر اسے ذبح کر دیا، تو کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْرَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِيَقْتُلُوهُ عَنْ قَتَلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ»
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو، جنہیں آپ ﷺ نے ابن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
…